❮
❯
حدیث نمبر: 15380
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّشِيطِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَا: ثنا سَلْمُ بْنُ زُرَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ، ثنا عِمْرَانُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْلَجُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانُوا فِي وَجْهِ الصُّبْحِ، عَرَّسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَلَبَتْهُمْ أَعْيُنُهُمْ حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ، فَكَانَ أَوَّلُ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ لَا يُوقِظُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَنَامِهِ أَحَدٌ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَيْقَظَ عُمَرُ فَفَعَلَ عِنْدَ رَأْسَهِ، فَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ، حَتَّى اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ قَالَ: «ارْتَحِلُوا» فَسَارَ بِنَا حَتَّى بَيَّضَتِ الشَّمْسُ، فَنَزَلَ فَصَلَّى بِنَا فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَلَمْ يُصَلِّ مَعَنَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «يَا فُلَانُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ، ثُمَّ صَلَّى، وَعَجَّلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكِبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ أَطْلُبُ الْمَاءَ، وَكُنَّا قَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا، فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ، إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ فَقُلْنَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لَا مَاءَ، فَقُلْنَا: كَمْ بَيْنَكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ؟ قَالَتْ: يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، قُلْنَا: انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: وَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِنْ أَمَرِهَا شَيْئًا، حَتَّى اسْتَقْبَلَنَا بِهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَتَحْنَا فِي الْعَزْلَاوَيْنِ، فَشَرِبْنَا عِطَاشًا أَرْبَعُونَ رَجُلًا حَتَّى رَوِينَا وَمَلَأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ، ثُمَّ قَالَ لَنَا: «هَلُمُّوا مَا عِنْدَكُمْ» فَجَمَعْنَا لَهَا مِنَ الْكِسَرِ وَالتَّمْرِ حَتَّى صَيَّرْنَا لَهَا صُرَّةً، فَقَالَ: «اذْهَبِي فَأَطْعِمِي هَذَا عِيَالَكِ، وَاعْلَمِ أَنَّا لَمْ نُزْرَأْ مِنْ مَائِكِ شَيْئًا» ، فَلَمَّا أَتَتْ أَهْلَهَا قَالَتْ: لَقَدْ لَقِينَا أَسْحَرَ النَّاسِ، أَوْ هُوَ نَبِيٌّ كَمَا زَعَمُوا، فَهَدَى اللهُ ذَلِكَ الْحَيِّ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ، فَأَسْلَمَتْ، وَأَسْلَمُوا
ترجمہ

ابو رجاء رحمہ اللہ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے، تو وہ رات بھر چلتے رہے یہاں تک کہ جب صبح کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے پڑاؤ کیا، اور نیند نے انہیں ایسا غالب کر لیا کہ سورج بلند ہو گیا۔ سب سے پہلے ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نیند سے بیدار ہوئے، اور رسول اللہ ﷺ کا یہ طریقہ تھا کہ کوئی آپ ﷺ کو نیند سے نہیں جگاتا تھا یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ خود بیدار ہو جاتے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو آپ ﷺ کے سرہانے بیٹھ کر تکبیر کہنے اور آواز بلند کرنے لگے، یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ بیدار ہو گئے۔ جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ سورج طلوع ہو چکا ہے تو فرمایا: ”کوچ کرو۔“ آپ ﷺ نے ہمیں لے کر سفر کیا یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا، پھر اترے اور ہمیں نماز پڑھائی، تو ایک آدمی الگ ہو گیا، ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھی، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے فلاں! تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟“ اس نے کہا: یا رسول اللہ، مجھے غسل کی حاجت لاحق ہو گئی۔ تو آپ ﷺ نے اسے مٹی سے تیمم کرنے کا حکم دیا، پھر اس نے نماز پڑھی۔ اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے آگے چند سواروں کے ساتھ روانہ کیا کہ پانی تلاش کروں، ہمیں سخت پیاس لگی ہوئی تھی، ہم چل ہی رہے تھے کہ ہمیں ایک عورت ملی جو اپنی دونوں ٹانگیں دو مشکوں کے درمیان لٹکائے بیٹھی تھی، ہم نے اس سے پوچھا: پانی کہاں ہے؟ اس نے کہا: ہیہات ہیہات، کوئی پانی نہیں۔ ہم نے کہا: تمہارے اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ اس نے کہا: ایک دن اور ایک رات۔ ہم نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی طرف چلو۔ اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ کون ہیں؟ ہم نے اسے اس کے معاملے میں کوئی اختیار نہ دیا، یہاں تک کہ ہم اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے آ گئے، تو ہم نے دونوں مشکوں کے منہ کھولے اور ہم چالیس پیاسے آدمیوں نے پیا یہاں تک کہ سیراب ہو گئے، اور اپنے ساتھ موجود ہر مشک اور برتن بھر لیا، پھر آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”جو کچھ تمہارے پاس ہو لے آؤ۔“ تو ہم نے اس کے لیے روٹی کے ٹکڑے اور کھجوریں جمع کیں یہاں تک کہ اس کے لیے ایک پوٹلی بنا دی، پھر فرمایا: ”جاؤ اور اپنے گھر والوں کو یہ کھلاؤ، اور جان لو کہ ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی۔“ جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس آئی تو کہا: ہمیں سب سے بڑا جادوگر ملا، یا وہ واقعی نبی ہے جیسا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ تو اللہ نے اس عورت کے ذریعے اس قبیلے کو ہدایت دی، وہ اسلام لے آئی اور وہ سب اسلام لے آئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15380
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 137، حدیث 289