حدیث نمبر: 15204
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَبَدَأَ فَاسْتَاكَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ مَعَهُ فَبَدَأَ، فَاسْتَفْتَحَ مِنَ الْبَقَرَةِ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ فَسَأَلَ، وَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ يَتَعَوُّذُ، ثُمَّ رَكَعَ فَمَكَثَ رَاكِعًا بِقَدْرِ قِيَامِهِ، يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: «سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» ثُمَّ قَرَأَ: آلَ عِمْرَانَ، ثُمَّ سُورَةً سُورَةً يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ

… تو انہوں نے سورۃ البقرہ سے قراءت شروع کی، کسی رحمت کی آیت سے نہیں گزرتے مگر رک کر دعا مانگتے، اور کسی عذاب کی آیت سے نہیں گزرتے مگر رک کر پناہ مانگتے، پھر رکوع کیا اور اتنی دیر رکوع میں رہے جتنی دیر قیام میں رہے تھے، رکوع میں یہ کہتے: ”پاک ہے وہ ذات جو جبروت، ملکوت، کبریائی اور عظمت والی ہے۔“ پھر سورۃ آل عمران پڑھی، پھر ایک ایک سورت پڑھتے گئے اور اسی طرح کرتے رہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15204
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 61، حدیث 113