حدیث نمبر: 15155
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أنا خَالِدُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّهُ أَبْصَرَ نَصْرَانِيًّا يَسُوقُ بِامْرَأَةٍ، فَنَخَسَ بِهَا فَصُرِعَتْ فَتَحَلَّلَهَا، فَضَرَبْتُهُ بِخَشَبَةٍ مَعِي فَشَجَجْتُهُ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ فَقُلْتُ: أَجِرْنِي مِنْ عُمَرَ وَخَشِيتُ عَجَلَتَهُ، فَأَتَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ، فَجَمَعَ بَيْنَنَا وَلَمْ يَزَلْ بِالنَّصْرَانِي حَتَّى اعْتَرَفَ، فَأَمَرَ لَهُ بِخَشَبَةٍ فَنُحِتَتْ، ثُمَّ قَالَ: «لِهَؤُلَاءِ عَهْدٌ فَفُوا بِعَهْدِهِمْ مَا وَفَوْا لَكُمْ، فَإِذَا بَدَّلُوا، فَلَا عَهْدَ لَهُمْ، وَأَمَرَ بِهِ فَصُلِبَ»
ترجمہ

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہا: مجھے عمر رضی اللہ عنہ سے پناہ دیں، مجھے ان کی جلدبازی کا خدشہ تھا۔ چنانچہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں بتایا، تو انہوں نے ہم دونوں کو جمع کیا، اور اس عیسائی سے تحقیق کرتے رہے یہاں تک کہ اس نے اعتراف کر لیا، تو انہوں نے اس کے لیے لکڑی کا حکم دیا جسے تراشا گیا، پھر فرمایا: ان معاہدین کا ہمارے ساتھ عہد ہے، جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تم بھی ان کے ساتھ اپنا عہد پورا کرو، اور جب وہ بدل جائیں تو ان کا کوئی عہد باقی نہیں رہتا۔ پھر حکم دیا تو اسے سولی پر لٹکا دیا گیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15155
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 37، حدیث 64