❮
❯
حدیث نمبر: 15102
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، وَحِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ أَتَى عُمَرَ فِي اللَّيْلِ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ حِينَ نَزَعَهُ عُمَرُ فَقَالَ: «لَمْ تَرْعَكَ، لَا أَبَا لَكَ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعِينُ بِكَ، وَلَمْ يَرْعَكَ» الْحَدِيثُ
ترجمہ

سیدنا علقمہ بن علاثہ رضی اللہ عنہ رات کے وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور وہ (علقمہ) انہیں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سمجھ رہے تھے، یہ اس وقت کی بات ہے جب عمر رضی اللہ عنہ نے خالد رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا تھا، تو انہوں (علقمہ) نے کہا: انہوں نے تمہارا لحاظ نہ کیا، تمہارا باپ نہ ہو! حالانکہ رسول اللہ ﷺ تم سے مدد لیا کرتے تھے، پھر بھی انہوں نے تمہارا لحاظ نہ کیا۔ (راوی نے آگے پوری حدیث بیان کی)۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15102
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 9، حدیث 10