حدیث نمبر: 14984
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتَ اللهَ يُعْطِي الْعَبْدَ مَا يُحِبُّ وَهُوَ مُقِيمٌ عَلَى مَعَاصِيهِ، فَإِنَّمَا ذَلِكَ لَهُ مِنْهُ اسْتِدْرَاجٌ» ، ثُمَّ نَزَعَ هَذِهِ الْآيَةَ: {فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ، فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الأنعام: ٤٥]
ترجمہ

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم دیکھو کہ اللہ کسی بندے کو اس کی پسندیدہ چیزیں دیے جا رہا ہے جبکہ وہ اپنے گناہوں پر قائم ہے، تو یہ اس کے لیے استدراج (دھیرے دھیرے پکڑ) ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”پھر جب وہ اس چیز کو بھول گئے جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ہر چیز کے دروازے ان پر کھول دیے، یہاں تک کہ جب وہ اس پر جو انہیں دیا گیا خوش ہو گئے تو ہم نے اچانک انہیں پکڑ لیا، پس وہ ناامید ہو کر رہ گئے، چنانچہ ظالم قوم کی جڑ کاٹ دی گئی، اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں“ [الانعام: 45]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14984
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 330، حدیث 913