حدیث نمبر: 14674
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًّا، وَلَا يُؤَمَّنَّ رَجُلٌ فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا تَقْعُدْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَكَ» قَالَ زَائِدَةُ: فَقُلْتُ لِسُلَيْمَانَ: تَكْرِمَتُهُ صَدْرُ فِرَاشِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ
ترجمہ

سیدنا عقبہ بن عمرو (ابومسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں کی امامت ان کا اللہ کی کتاب کا سب سے بڑا قاری کرے، اگر وہ قراءت میں برابر ہوں تو جو سنت کا سب سے زیادہ عالم ہو، اگر وہ سنت میں برابر ہوں تو جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو، اگر وہ ہجرت میں برابر ہوں تو جو عمر میں سب سے بڑا ہو، اور کوئی آدمی کسی کے اقتدار کے علاقے میں اس کی امامت نہ کرے، اور نہ ہی اس کے گھر میں اس کی خاص نشست پر بیٹھے مگر اس کی اجازت سے۔“
زائدہ کہتے ہیں: میں نے سلیمان (اعمش) سے پوچھا: کیا ”تکرمہ“ سے مراد اس کے بستر کا صدر (خاص جگہ) ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14674
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 219، حدیث 602