حدیث نمبر: 14577
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَرِيبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ والنَّبْلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَأَهْلُهَا مُعَانُونَ عَلَيْهَا، وَالْمُنْفِقُ عَلَيْهَا كَبَاسِطِ يَدَيْهِ فِي صَدَقَةٍ، وَأَبْوَالُهَا وَأَرْوَاثُها لِأَهْلِهَا عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ مِسْكِ الْجَنَّةِ»
ترجمہ

سیدنا عریب ملیکی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانی کے بالوں میں قیامت تک کے لیے خیر اور نیک نامی باندھ دی گئی ہے، اور ان کے مالکوں کی مدد کی جاتی ہے، اور جو ان پر خرچ کرے وہ گویا صدقہ کے لیے اپنے دونوں ہاتھ کھولے ہوئے ہے، اور ان کا پیشاب اور مینگنی ان کے مالکوں کے لیے قیامت کے دن اللہ کے ہاں جنت کی مشک میں تبدیل ہو جائیں گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14577
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 188، حدیث 505