❮
❯
حدیث نمبر: 14368
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الطَّائِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قِيرَاطٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنُ بِنْتِ شُرَحْبِيلَ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الطَّائِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى فِي نَاسٍ يُرِيدُونَ أَنْ يُغَيِّرُوا أَسْمَاءَهُمْ، قَالَ: فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي وَأَنَا غُلَامٌ حَدَثٌ فَقَالَ: «مَا اسْمُكَ؟» فَقُلْتُ: عَتَلَةُ بْنُ عَبْدٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ أَنْتَ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدٍ أَرِنِي سَيْفَكَ» فَسَلَّهُ فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ سَيْفٌ فِيهِ دِقَّةُ وَضَعْفٌ، فَقَالَ: «لَا تَضْرِبْ بِهَذَا وَلَكِنِ اطْعَنْ بِهِ طَعْنًا»
ترجمہ

محمد بن قاسم طائی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن عتبہ بن عبد رحمہ اللہ کو اپنے والد سے یہ بیان کرتے سنا کہ وہ عتبہ بن عبد کچھ لوگوں کے ساتھ آئے جو اپنے نام بدلوانا چاہتے تھے۔ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا تو مجھے بلایا، میں اس وقت ایک کم عمر لڑکا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: عتلہ بن عبد۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم عتبہ بن عبد ہو، مجھے اپنی تلوار دکھاؤ۔“ میں نے اسے نیام سے نکالا، جب آپ ﷺ نے اسے دیکھا تو وہ ایک باریک اور کمزور تلوار تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے وار مت کرو بلکہ اس سے چبھو کر مارو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14368
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 120، حدیث 296