المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عدي بن ربيعة بن سواءة بن جشم الجشمي باب: سیدنا عدی بن ربیعہ بن سواءہ بن جشم جشمی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغَلَابِيُّ، ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ الْمِنْقَرِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ سَلْمُ بْنُ عِصَامٍ الثَّقَفِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَرَجِ الرِّيَاشِيُّ، ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ الْمِنْقَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَوِيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ خَلِيفَةَ بْنِ عَبْدَةَ بْنِ جَرْوَلٍ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَدِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ سُوَاءَةَ بْنِ جُشَمٍ، كَيْفَ سَمَّاكَ أَبُوكَ مُحَمَّدُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: أَمَا إنِّي قَدْ سَأَلْتُ أَبِي عَمَّا سَأَلْتَنِي عَنْهُ فَقَالَ: خَرَجْتُ رَابِعَ أَرْبَعَةٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ أَنَا أَحَدُهُمْ وَسُفْيَانُ بْنُ مُجَاشِعِ بْنِ دَارِمٍ وَأُسَامَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُنْدُبِ بْنِ الْعَنْبَرِ، وَيَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ كنابية بْنِ حُرْقُوصَ بْنِ مَازِنٍ، ويَزِيدُ بْنُ جَفْنَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ غَسَّانَ بِالشَّامِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ نَزَلْنَا عَلَى غَدِيرٍ عَلَيْهِ شَجَرَاتُ الدِّيرَانِيِّ - يَعْنِي صَاحِبَ صَوْمَعَةٍ - فَقُلْنَا: لَوِ اغْتَسَلْنَا مِنْ هَذَا الْمَاءِ وَادَّهَنَّا وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا، ثُمّ أَتَيْنَا صَاحِبَنَا فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا الدِّيرَانِيُّ فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ لُغَةٌ مَا هِيَ بِلُغَةِ أَهْلِ الْبَلَدِ فَقُلْنَا: نَعَمْ، نَحْنُ قَوْمٌ مِنْ مُضَرَ قَالَ: مِنْ أَيِّ مُضَرَ؟ قُلْنَا: مِنْ خِنْدِفٍ قَالَ: أَمَا إنَّهُ سَيُبْعَثُ مِنْكُمْ وَشَيِكًا نَبِيٌّ فَسَارِعُوا وَخُذُوا بِحَظِّكُمْ مِنْهُ تَرْشَدُوا فَإِنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ فَقُلْنَا: مَا اسْمُهُ؟ فَقَالَ: مُحَمَّدٌ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْ عِنْدِ ابْنِ جَفْنَةَ وُلِدَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا، قَالَ الْعَلَاءُ: قَالَ قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَدْرِي مَنْ أَوَّلُ مَنْ عَلِمَ بِكَ مِنَ الْعَرَبِ قَبْلَ أَنْ تُبْعَثَ؟ قَالَ: «لَا» ، قَالَ: بَنُو تَمِيمٍ وَقَصَّ عَلَيْهِ هَذِهِ الْقِصَّةَخلیفہ بن عبدہ بن جرول کہتے ہیں: میں نے محمد بن عدی بن ربیعہ بن سواءہ بن جشم سے پوچھا: جاہلیت میں تمہارے والد نے تمہارا نام محمد کیسے رکھا؟ انہوں نے کہا: سنو! میں نے بھی اپنے والد سے یہی پوچھا تھا جو تم نے مجھ سے پوچھا ہے، تو انہوں نے کہا: میں بنو تمیم کے چار آدمیوں میں چوتھا بن کر نکلا، ان میں سے ایک میں تھا، اور سفیان بن مجاشع بن دارم، اور اسامہ بن مالک بن جندب بن عنبر، اور یزید بن ربیعہ بن کنابیہ بن حرقوص بن مازن، (ہم) شام میں یزید بن جفنہ بن مالک بن غسان کے پاس (جا رہے تھے)۔ جب ہم شام پہنچے تو ایک تالاب پر اترے جس پر ایک دیرانی - یعنی عبادت خانے والے راہب - کے درخت تھے۔ ہم نے کہا: کیوں نہ ہم اس پانی سے غسل کر لیں، تیل لگا لیں اور اپنے (اچھے) کپڑے پہن لیں، پھر اپنے میزبان کے پاس جائیں۔ اتنے میں راہب نے اوپر سے ہمیں جھانک کر دیکھا اور کہا: یہ زبان اس علاقے کے لوگوں کی زبان نہیں ہے۔ ہم نے کہا: ہاں، ہم مضر کے لوگ ہیں۔ اس نے کہا: کون سے مضر سے؟ ہم نے کہا: خندف سے۔ اس نے کہا: سنو! عنقریب تم میں سے ایک نبی مبعوث ہو گا، پس جلدی کرنا اور اس سے اپنا حصہ لے لینا، ہدایت پا جاؤ گے، کیونکہ وہ خاتم النبیین ہے۔ ہم نے کہا: اس کا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: محمد۔ جب ہم ابن جفنہ کے پاس سے لوٹے تو ہم میں سے ہر ایک کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور اس نے اس کا نام محمد رکھا۔ علاء کہتے ہیں: قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے مبعوث ہونے سے پہلے عربوں میں سب سے پہلے آپ کے بارے میں کس نے جان لیا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے کہا: بنو تمیم، اور انہوں نے یہ واقعہ آپ ﷺ کو سنایا۔