المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمير العبدي أبو الأشعث باب: سیدنا عمیر عبدی ابواشعث رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ، فَلَمَّا أَرَادُوا الِانْصِرَافَ قَالُوا: قَدْ حَفِظْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ شَيْءٍ سَمِعْتُمُوهُ فَسَلُوهُ عَنِ النَّبِيذِ فَأَتَوْهُ؟ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إنَّا بِأَرْضٍ وَخِمَةٍ لَا يُصْلِحُنَا فِيهَا إِلَّا الشَّرَابُ قَالَ: «وَمَا شَرَابُكُمْ؟» قَالُوا: النَّبِيذُ، قَالَ: «وَفِي أَيٍّ تَشْرَبُونَهُ؟» قَالُوا: فِي النَّقِيرِ فَقَالَ: «لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ» فَقَالُوا: وَاللهِ لَا يُصالِحُنا قَوْمُنَا عَلَى هَذَا فَرَجَعُوا فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ لَهُمْ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ عَادُوا فَقَالَ «لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ فَيَضْرِبَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ ضَرْبَةً لَا يَزَالُ مِنْهَا أَعْرَجَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» ، فَضَحِكُوا فَقَالَ: «وَأَيُّ شَيْءٍ تَضْحَكُونَ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقّ لَقَدْ شَرِبْنَا فِي نَقِيرٍ لَنَا فَقَامَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ فَضَرَبَ هَذَا ضَرْبَةً أَعْرَجَ مِنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ…(کچھ لوگوں نے) کہا: تم نے رسول اللہ ﷺ سے جو کچھ بھی سنا وہ یاد رکھا، تو ان سے نبیذ کے بارے میں پوچھو۔ چنانچہ وہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسی سرزمین میں رہتے ہیں جہاں کی آب و ہوا خراب ہے، اور ہمیں وہاں مشروب کے سوا کوئی چیز موافق نہیں آتی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا مشروب کیا ہے؟“ عرض کیا: نبیذ۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم اسے کس برتن میں پیتے ہو؟“ عرض کیا: کھجور کے تنے سے کھودے گئے برتن میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں مت پیو۔“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہماری قوم اس پر راضی نہ ہوگی۔ وہ واپس گئے، پھر آ کر دوبارہ پوچھا تو آپ ﷺ نے پھر وہی فرمایا۔ پھر وہ دوبارہ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں مت پیو، ورنہ تم میں سے کوئی ایسی ضرب کھائے گا کہ وہ قیامت تک لنگڑا رہے گا۔“ وہ ہنس پڑے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم کیوں ہنس رہے ہو؟“ عرض کیا: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، ہم نے اپنے ایک ایسے ہی برتن میں پیا تھا تو ہم میں سے کچھ لوگ ایک دوسرے پر لڑ پڑے، اور اس لڑائی میں فلاں کو ایسی ضرب لگی کہ وہ قیامت تک اس سے لنگڑا ہو گیا۔