حدیث نمبر: 14155
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، كَانَ لَهُ رِبًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَمْنَعُهُ ذَلِكَ الرِّبَا مِنَ الْإِسْلَامِ حَتَّى يَأْخُذَهُ ثُمَّ يُسْلِمَ، فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُحُدٍ فَقَالَ لِقَوْمِهِ: أَيْنَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ؟ فَقَالُوا: هُوَ بِأُحُدٍ فَقَالَ: أَيْنَ فُلَانٌ؟ فَقَالُوا: بِأُحُدٍ فَسَأَلَ عَنْ قَوْمِهِ؟ قَالُوا: هُمْ بِأُحُدٍ، فَأَخَذَ سَيْفَهُ وَرُمْحَهُ وَلَبِسَ لَأْمَتَهُ ثُمَّ أَتَى أُحُدًا فَلَمَّا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ قَالُوا: إِلَيْكَ عَنَّا يَا عَمْرُو قَالَ: إِنِّي قَدْ آمَنْتُ فَحَمَلَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَحُمِلَ إِلَى أَهْلِهِ جَرِيحًا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ وَقَالَ لِأَخِيهِ: نَادِهِ جِئْتَ غَضِبًا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» فَمَاتَ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ وَلَمْ يُصَلِّ قَطُّ
ترجمہ

…لوگوں نے کہا: ہم سے دور رہو اے عمرو۔ انہوں نے کہا: میں تو ایمان لا چکا ہوں۔ چنانچہ وہ آگے بڑھے اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے، انہیں زخمی حالت میں ان کے گھر والوں کے پاس لایا گیا، تو سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان کے بھائی سے کہا: ان سے پوچھو، تم اللہ اور اس کے رسول کی خاطر غصے میں (لڑنے) آئے تھے؟ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ پھر ان کا انتقال ہو گیا اور وہ جنت میں داخل ہوئے حالانکہ انہوں نے کبھی نماز نہیں پڑھی تھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14155
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 39، حدیث 83