المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن الأحوص أبو سليمان التميمي باب: سیدنا عمرو بن احوص ابوسلیمان تمیمی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ح، وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالُوا: ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثَنَا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ: «أَلَا أَيُّ يَوْمٍ أَحْرَمُ؟» فَقَالُوا: يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ، قَالَ: " أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، أَلَا لَا يَجْنِي جَانٍ إِلَّا عَلَى نَفْسِهِ، أَلَا لَا يَجْنِي وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ، أَلَا إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَبَدًا، وَلَكِنْ سَيَكُونُ لَهُ طَاعَةٌ فِي بَعْضِ مَا تَحْتَقِرُونَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ فَيَرْضَى بِهَا، أَلَا وَكُلُّ دَمٍ مِنْ دِمَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ مَا أَضَعُ مِنْهَا دَمُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا يَا أُمَّتَاهُ قَدْ بَلَّغْتُ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ: «اللهُمَّ اشْهَدْ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍسیدنا عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے سنا: ”سنو! سب سے زیادہ حرمت والا دن کون سا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: حج اکبر کا دن۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سنو! تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزتیں آپس میں اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی، اس شہر کی اور اس مہینے کی حرمت ہے۔ سنو! کوئی جرم کرنے والا اپنے سوا کسی اور پر (اس کا الزام) نہ لے۔ سنو! نہ باپ اپنی اولاد کے جرم پر (پکڑا جائے) اور نہ اولاد اپنے باپ کے جرم پر۔ سنو! شیطان اس بات سے تو مایوس ہو چکا ہے کہ اس شہر میں کبھی اس کی پوجا کی جائے گی، لیکن وہ تمہارے ان اعمال میں، جنہیں تم حقیر سمجھتے ہو، اپنی اطاعت پائے گا اور اسی پر راضی ہو جائے گا۔ سنو! جاہلیت کے تمام خون معاف کر دیے گئے ہیں، اور سب سے پہلا خون جو میں معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے، جو بنو لیث میں دودھ پی رہے تھے کہ قبیلہ ہذیل نے انہیں قتل کر دیا تھا۔“ پھر آپ ﷺ نے تین بار فرمایا: ”سنو اے میری امت! کیا میں نے پہنچا دیا؟“ پھر تین بار فرمایا: ”اے اللہ! گواہ رہ۔“