المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن أرقم الزهري وهو عبد الله بن الأرقم بن عبد يغوث بن وهب بن عبد مناف بن زهرة، وأمه عمرة بنت الأرقم بن هاشم بن عبد مناف، كان قد عمي قبل وفاته، كان كاتبا للنبي صلى الله عليه وسلم، وأبي بكر، وعمر، وعثمان رضي الله عنهم باب: سیدنا عبداللہ بن ارقم زہری رضی اللہ عنہ، وہ عبداللہ بن ارقم بن عبدیغوث بن وہب بن عبدمناف بن زہرہ ہیں، ان کی والدہ عمرہ بنت ارقم بن ہاشم بن عبدمناف تھیں، وفات سے پہلے نابینا ہوگئے تھے، نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے کاتب (وحی نویس) تھے
حدیث نمبر: 14063
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، يَقُولُ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، وَكَانَ هُوَ يَتَقَدَّمُنَا فَأَذِنَ لَنَا فَخَرَجَ إِلَى الْغَائِطِ، فَقِيلَ لَهُ: لَوْ صَلَّيْتَ ثُمَّ خَرَجْتَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَكَانَ بِأَحَدِكُمُ الْغَائِطُ فَلْيَبْدَأْ بِهِ، ثُمَّ لِيُصَلِّ بَعْدُ، وَلَا يَأْتِي الصَّلَاةَ وَهُوَ يُدَافِعُ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ ہمیں امامت کراتے تھے، ایک بار انہوں نے ہم سے اجازت لی اور قضائے حاجت کے لیے چلے گئے، ان سے کہا گیا: کاش آپ پہلے نماز پڑھا لیتے پھر جاتے۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جب نماز کا وقت آ جائے اور تم میں سے کسی کو قضائے حاجت کی ضرورت ہو تو وہ پہلے اسے پورا کرے، پھر بعد میں نماز پڑھے، اور نماز کے لیے اس حال میں نہ آئے کہ وہ (قضائے حاجت کی حاجت کو) روکے ہوئے ہو۔“