المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن أرقم الزهري وهو عبد الله بن الأرقم بن عبد يغوث بن وهب بن عبد مناف بن زهرة، وأمه عمرة بنت الأرقم بن هاشم بن عبد مناف، كان قد عمي قبل وفاته، كان كاتبا للنبي صلى الله عليه وسلم، وأبي بكر، وعمر، وعثمان رضي الله عنهم باب: سیدنا عبداللہ بن ارقم زہری رضی اللہ عنہ، وہ عبداللہ بن ارقم بن عبدیغوث بن وہب بن عبدمناف بن زہرہ ہیں، ان کی والدہ عمرہ بنت ارقم بن ہاشم بن عبدمناف تھیں، وفات سے پہلے نابینا ہوگئے تھے، نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے کاتب (وحی نویس) تھے
حدیث نمبر: 14058
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَرْقَمَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ وَكَانَ إِمَامَهُمْ، فَقَدَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي بِهِمْ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَبِأَحَدِكُمْ غَائِطٌ، فَلْيَبْدَأْ بِهِ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن ارقم زہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ مکہ کی طرف نکلے، وہ ان کے امام تھے، انہوں نے ایک شخص کو آگے کر دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جب نماز کھڑی ہو جائے اور تم میں سے کسی کو قضائے حاجت کی ضرورت ہو تو وہ پہلے اسے پورا کرے۔“