حدیث نمبر: 13842
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَحْمَرِ النَّاقِدُ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ أَبُو يَعْلَى الْأُبَلِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ عَقِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَتْ قُرَيْشٌ نَاحَتْ قَتْلَاهَا، ثُمَّ نَدِمَتْ، وَقَالُوا: لَا تَنُوحُوا عَلَيْهِمْ فَيَبْلُغُ ذَلِكَ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ فَيَشْمَتُوا بِكُمْ، وَكَانَ فِي الْأَسْرَى أَبُو وَدَاعَةَ بْنُ صَبْرَةَ السَّهْمِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لَهُ بِمَكَّةَ ابْنًا تَاجِرًا كَيِّسًا ذَا مَالٍ كَأَنَّكُمْ بِهِ قَدْ جَاءَكُمْ فِي فِدَاءِ أَبِيهِ» ، فَلَمَّا قَالَتْ قُرَيْشٌ فِي الْفِدَاءِ مَا قَالَتْ، قَالَ الْمُطَّلِبُ: صَدَقْتُمْ، وَاللهِ لَئِنْ فَعَلْتُمْ لَيَثْأَرَنَّ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ انْسَلَّ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَفَدَى أَبَاهُ بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ
ترجمہ

… پھر انہیں ندامت ہوئی اور کہنے لگے: ان پر نوحہ نہ کرو، ورنہ یہ بات محمد ﷺ اور ان کے صحابہ تک پہنچ جائے گی اور وہ تم پر خوش ہوں گے۔ اور قیدیوں میں ابوودَاعہ بن صَبرہ سہمی بھی تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا مکہ میں ایک ہوشیار اور مالدار تاجر بیٹا ہے، گویا وہ اپنے باپ کا فدیہ لے کر تمہارے پاس آ چکا ہے۔“ تو جب قریش نے فدیے کے بارے میں جو کچھ کہا کہا، تو مطلب نے کہا: تم نے سچ کہا، خدا کی قسم، اگر تم نے ایسا کیا تو وہ تم سے ضرور انتقام لے گا، پھر وہ رات کو چپکے سے نکلا اور مدینہ پہنچا اور اپنے باپ کا فدیہ چار ہزار درہم میں ادا کیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13842
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 102، حدیث 245