المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عباد بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه باب: عباد بن عبداللہ بن زبیر کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَحْمَرِ النَّاقِدُ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ أَبُو يَعْلَى الْأُبَلِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ عَقِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَتْ قُرَيْشٌ نَاحَتْ قَتْلَاهَا، ثُمَّ نَدِمَتْ، وَقَالُوا: لَا تَنُوحُوا عَلَيْهِمْ فَيَبْلُغُ ذَلِكَ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ فَيَشْمَتُوا بِكُمْ، وَكَانَ فِي الْأَسْرَى أَبُو وَدَاعَةَ بْنُ صَبْرَةَ السَّهْمِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لَهُ بِمَكَّةَ ابْنًا تَاجِرًا كَيِّسًا ذَا مَالٍ كَأَنَّكُمْ بِهِ قَدْ جَاءَكُمْ فِي فِدَاءِ أَبِيهِ» ، فَلَمَّا قَالَتْ قُرَيْشٌ فِي الْفِدَاءِ مَا قَالَتْ، قَالَ الْمُطَّلِبُ: صَدَقْتُمْ، وَاللهِ لَئِنْ فَعَلْتُمْ لَيَثْأَرَنَّ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ انْسَلَّ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَفَدَى أَبَاهُ بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍسیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: قریش نے اپنے مقتولین پر نوحہ کیا، پھر نادم ہوئے اور کہا: ان پر نوحہ نہ کرو، ایسا نہ ہو کہ یہ بات محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں تک پہنچے اور وہ تم پر خوش ہوں۔ قیدیوں میں ابو وداعہ بن صبرہ سہمی بھی تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مکہ میں اس کا ایک بیٹا ہے جو ہوشیار تاجر اور مالدار ہے، گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے باپ کا فدیہ دینے تمہارے پاس آ گیا ہے۔“ جب قریش نے فدیے کے بارے میں جو کہا سو کہا، تو مطلب نے کہا: تم نے سچ کہا، اللہ کی قسم! اگر تم نے ایسا کیا تو وہ تم سے بدلہ ضرور لے گا۔ پھر وہ رات ہی کو چپکے سے نکل گیا اور مدینہ پہنچا، اور اپنے باپ کو چار ہزار درہم دے کر چھڑایا۔