❮
❯
حدیث نمبر: 13742
حَدَّثَنَا خَيْرُ بْنُ عَرَفَةَ التُّجِيبِيُّ، قَالَ: ثنا هَانِئُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، قَالَ: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ إِبْرَاهِيمَ مَارِيَةَ الْقِبْطِيَّةِ أُمِّ وَلَدِهِ، وَهِيَ حَامِلٌ مِنْهُ بِإِبْرَاهِيمَ، فَوَجَدَ عِنْدَهَا نَسِيبًا لَهَا، كَانَ قَدِمَ مَعَهَا مِنْ مِصْرَ، فَأَسْلَمَ وَحَسُنَ إِسْلَامُهُ، وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ إِبْرَاهِيمَ، وَأَنَّهُ رَضِيَ بِمَكَانِهِ مِنْ أُمِّ وَلَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجُبَّ نَفْسَهُ، فَقَطَعَ مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ حَتَّى لَمْ يُبْقِ لِنَفْسِهِ قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا عَلَى أُمِّ إِبْرَاهِيمَ، فَوَجَدَ قَرِيبَهَا عِنْدَهَا، فَوَقَعَ فِي نَفْسِهِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ كَمَا يَقَعُ فِي أَنْفُسِ النَّاسِ، فَرَجَعَ مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ، فَلَقِيَ عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا وَقَعَ فِي نَفْسِهِ مِنْ قَرِيبِ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ، فَأَخَذَ سَيْفَهُ، وَأَقْبَلَ يَسْعَى حَتَّى دَخَلَ عَلَى مَارِيَةَ، فَوَجَدَ قَرِيبَهَا ذَلِكَ عِنْدَهَا، فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِالسَّيْفِ لِيَقْتُلَهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مِنْهُ كَشَفَ عَنْ نَفْسِهِ، فَلَمَّا رَآهُ عُمَرُ رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُ أَنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ بَرَّأَهَا وَقَرِيبَهَا مِمَّا وَقَعَ فِي نَفْسِي، وَبَشَّرَنِي أَنَّ فِي بَطْنِهَا غُلَامًا مِنِّي وَأَنَّهُ أَشْبَهُ الْخَلْقِ بِي، وَأَمَرَنِي أَنْ أُسَمِّيَهُ إِبْرَاهِيمَ، وَكَنَّانِي بِأَبِي إِبْرَاهِيمَ، فَلَوْلَا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُحَوِّلَ كُنْيَتِي الَّتِي عُرِفْتُ بِهَا لَتَكَنَّيْتُ بِأَبِي إِبْرَاهِيمَ كَمَا كَنَّانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ»
ترجمہ

عبدالرحمٰن بن شماسہ مہری رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام ابراہیم، ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا، اپنی ام ولد، کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ آپ ﷺ سے ابراہیم کی حاملہ تھیں، تو آپ ﷺ نے ان کے پاس ان کا ایک رشتہ دار پایا جو ان کے ساتھ مصر سے آیا تھا، اس نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اس کا اسلام اچھا تھا، اور وہ ام ابراہیم کے پاس آتا جاتا تھا۔ اسے رسول اللہ ﷺ کی ام ولد کے پاس اپنی اس حیثیت پر اتنا اطمینان تھا کہ اس نے اپنے آپ کو خصی کرا لیا، اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان کا حصہ کاٹ دیا یہاں تک کہ اپنے لیے تھوڑا بہت کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ ام ابراہیم کے پاس تشریف لے گئے تو ان کے قریبی رشتہ دار کو ان کے پاس پایا، تو آپ ﷺ کے دل میں اس سے وہی بات آئی جو عام لوگوں کے دل میں آ جاتی ہے، تو آپ ﷺ کا رنگ متغیر ہو کر لوٹے۔ آپ ﷺ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملے تو انہیں بتایا کہ ام ابراہیم کے رشتہ دار کے بارے میں ان کے دل میں کیا بات آئی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار اٹھائی اور دوڑتے ہوئے ماریہ کے پاس گئے، وہاں انہیں ان کا وہی رشتہ دار موجود ملا، تو انہوں نے اسے قتل کرنے کے لیے اس پر تلوار سے وار کرنا چاہا۔ جب اس شخص نے یہ دیکھا تو اپنی حالت ظاہر کر دی۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے اور آپ ﷺ کو بتایا۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے بتایا کہ اللہ عزوجل نے انہیں اور ان کے رشتہ دار کو اس بات سے بری قرار دے دیا ہے جو میرے دل میں آئی تھی، اور مجھے یہ خوشخبری دی کہ ان کے پیٹ میں میرا ایک بیٹا ہے، اور وہ مخلوق میں مجھ سے سب سے زیادہ مشابہ ہوگا، اور مجھے حکم دیا کہ میں اس کا نام ابراہیم رکھوں، اور مجھے ابو ابراہیم کی کنیت دی، اور اگر مجھے یہ بات ناپسند نہ ہوتی کہ میں اپنی وہ کنیت بدلوں جس سے میں پہچانا جاتا ہوں، تو میں ابو ابراہیم کی کنیت اختیار کر لیتا جیسا کہ جبریل علیہ السلام نے مجھے کنیت دی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13742
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 58، حدیث 145