حدیث نمبر: 13673
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَلُولٍ، قَالَ: ثنا الْمُقْرِئُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَتَعَاظَمُهُ ذَنْبٌ غَفَرَهُ. إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ قَتَلَ ثَمَانِيًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا، فَأَتَى رَاهِبًا، فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ ثَمَانِيًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟، فَقَالَ لَهُ: قَدْ أَسْرَفْتَ، فَقَامَ إِلَيْهِ فَقَتَلَهُ، ثُمَّ أَتَى رَاهِبًا آخَرَ فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟، قَالَ: لَا، قَدْ أَسْرَفْتَ، فَقَامَ إِلَيْهِ فَقَتَلَهُ، ثُمَّ أَتَى رَاهِبًا آخَرَ، فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ مِائَةَ نَفْسٍ فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟، فَقَالَ: قَدْ أَسْرَفْتَ وَمَا أَدْرِي، وَلَكِنْ هَهُنَا قَرْيَتَانِ قَرْيَةٌ يُقَالُ لَهَا نَضْرَةُ، وَالْأُخْرَى يُقَالُ لَهَا كُفَرَةُ، أَمَا نَضْرَةُ فَيَعْمَلُونَ عَمَلَ الْجَنَّةِ لَا يَثْبُتُ فِيهَا غَيْرُهُمْ، وَأَمَّا كُفْرَةُ فَيَعْمَلُونَ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ لَا يَثْبُتُ فِيهَا غَيْرُهُمْ، فَانْطَلَقَ إِلَى نَضْرَةَ فَإِنْ ثَبَتَّ فِيهَا، وَعَمِلْتَ مِثْلَ أَهْلِهَا فَلَا شَكَّ فِي تَوْبَتِكَ. فَانْطَلَقَ يُرِيدُهَا حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الْقَرْيَتَيْنِ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ، فَسَأَلَتِ الْمَلَائِكَةُ رَبَّهَا عَنْهُ، فَقَالَ: انْظُرُوا إِلَى أَيِّ الْقَرْيَتَيْنِ كَانَ أَقْرَبَ فَاكْتُبُوهُ مِنْ أَهْلِهَا، فَوَجَدُوهُ أَقْرَبَ إِلَى نَضْرَةَ بِقِيدِ أُنْمُلَةَ، فَكُتِبَ مِنْ أَهْلِهَا "
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”اللہ عزوجل کے نزدیک کوئی گناہ اتنا بڑا نہیں کہ وہ اسے بخش نہ سکے۔ تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جس نے اٹھانوے آدمی قتل کیے، پھر وہ ایک راہب کے پاس آیا اور کہا: میں نے اٹھانوے آدمی قتل کیے ہیں، کیا میرے لیے توبہ کی کوئی گنجائش ہے؟ راہب نے کہا: تو نے حد سے تجاوز کر دیا۔ وہ اس کی طرف بڑھا اور اسے بھی قتل کر ڈالا۔ پھر وہ دوسرے راہب کے پاس آیا اور کہا: میں نے ننانوے آدمی قتل کیے ہیں، کیا میرے لیے توبہ کی کوئی گنجائش ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تو نے حد سے تجاوز کر دیا۔ وہ اس کی طرف بڑھا اور اسے بھی قتل کر ڈالا۔ پھر وہ ایک اور راہب کے پاس آیا اور کہا: میں نے سو آدمی قتل کیے ہیں، کیا میرے لیے توبہ کی کوئی گنجائش ہے؟ اس نے کہا: تو نے یقیناً حد سے تجاوز کیا ہے، اور مجھے نہیں معلوم، لیکن یہاں دو بستیاں ہیں، ایک کا نام نضرہ ہے اور دوسری کا نام کفرہ ہے، نضرہ والے جنتیوں کے سے عمل کرتے ہیں، ان کے سوا کوئی وہاں نہیں ٹھہرتا، اور کفرہ والے جہنمیوں کے سے عمل کرتے ہیں، ان کے سوا کوئی وہاں نہیں ٹھہرتا۔ تو تم نضرہ کی طرف چلے جاؤ، اگر تم وہاں ٹھہر گئے اور ان جیسا عمل کیا تو تمہاری توبہ میں کوئی شک نہیں۔ چنانچہ وہ نضرہ کی طرف چل پڑا، یہاں تک کہ جب دونوں بستیوں کے درمیان پہنچا تو اسے موت نے آ لیا، تو فرشتوں نے اپنے رب سے اس کے بارے میں پوچھا، تو اللہ نے فرمایا: دیکھو وہ دونوں بستیوں میں سے کس کے زیادہ قریب تھا، اسے اسی کے اہل میں شمار کر لو۔ چنانچہ انہوں نے اسے نضرہ کے ایک انگلی کے پورے برابر زیادہ قریب پایا، تو اسے اسی کے اہل میں لکھ دیا گیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13673
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 34، حدیث 76