المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو عبد الرحمن الحبلي، عن عبد الله بن عمرو باب: ابوعبدالرحمن حبلی کی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بنُ أَبِي مَرْيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا نَافِعُ بنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بنُ سَيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَبَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، فَلَمَّا رَجَعْنَا وَحَاذَيْنَا بَابَهُ، إِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ مُقْبِلَةٍ لَا نَظُنُّهُ عَرَفَهَا، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ مِنْ أَيْنَ جِئْتِ؟» ، قَالَتْ: مِنْ عِنْدِ أَهْلِ هَذَا الْمَيِّتِ رَحِمْتُ إِلَيْهِمْ مَيِّتَهُمْ وَعَزَّيْتُهُمْ، قَالَ: «فَلَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى» ، قَالَتْ: مَعَاذَ اللهِ، أَنْ أَبْلُغَ مَعَهُمُ الْكُدَى، وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ مِنْهُمْ مَا تَذْكُرُ، قَالَ: «لَوْ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ» . وَالْكُدَى: الْمَقَابِرُ،سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک آدمی کو دفن کیا، پھر جب ہم واپس آئے اور آپ ﷺ کے دروازے کے سامنے پہنچے تو اچانک ایک عورت سامنے سے آتی ہوئی نظر آئی، ہمارا خیال تھا کہ آپ ﷺ نے اسے پہچانا نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فاطمہ، کہاں سے آ رہی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: اسی میت والوں کے پاس سے، ان پر رحم کھا کر گئی تھی اور ان سے تعزیت کی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم ان کے ساتھ قبرستان تک پہنچی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: معاذ اللہ کہ میں ان کے ساتھ قبرستان تک جاتی، حالانکہ میں نے آپ کو اس بارے میں وہ کچھ کہتے سنا ہے جو آپ کہا کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم ان کے ساتھ قبرستان تک پہنچی ہوتیں تو جنت نہ دیکھتیں یہاں تک کہ تمہارے پردادا اسے دیکھ لیتے۔“
الکُدیٰ سے مراد قبرستان ہیں۔