حدیث نمبر: 13642
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بنُ أَبِي مَرْيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا نَافِعُ بنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بنُ سَيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَبَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، فَلَمَّا رَجَعْنَا وَحَاذَيْنَا بَابَهُ، إِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ مُقْبِلَةٍ لَا نَظُنُّهُ عَرَفَهَا، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ مِنْ أَيْنَ جِئْتِ؟» ، قَالَتْ: مِنْ عِنْدِ أَهْلِ هَذَا الْمَيِّتِ رَحِمْتُ إِلَيْهِمْ مَيِّتَهُمْ وَعَزَّيْتُهُمْ، قَالَ: «فَلَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى» ، قَالَتْ: مَعَاذَ اللهِ، أَنْ أَبْلُغَ مَعَهُمُ الْكُدَى، وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ مِنْهُمْ مَا تَذْكُرُ، قَالَ: «لَوْ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ» . وَالْكُدَى: الْمَقَابِرُ،
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک آدمی کو دفن کیا، پھر جب ہم واپس آئے اور آپ ﷺ کے دروازے کے سامنے پہنچے تو اچانک ایک عورت سامنے سے آتی ہوئی نظر آئی، ہمارا خیال تھا کہ آپ ﷺ نے اسے پہچانا نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فاطمہ، کہاں سے آ رہی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: اسی میت والوں کے پاس سے، ان پر رحم کھا کر گئی تھی اور ان سے تعزیت کی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم ان کے ساتھ قبرستان تک پہنچی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: معاذ اللہ کہ میں ان کے ساتھ قبرستان تک جاتی، حالانکہ میں نے آپ کو اس بارے میں وہ کچھ کہتے سنا ہے جو آپ کہا کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم ان کے ساتھ قبرستان تک پہنچی ہوتیں تو جنت نہ دیکھتیں یہاں تک کہ تمہارے پردادا اسے دیکھ لیتے۔“
الکُدیٰ سے مراد قبرستان ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13642
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 24، حدیث 45