حدیث نمبر: 13610
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَيْثَمَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مابَهْرَامَ الْأَيْذَجِيُّ، قَالَا: ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: ثنا كَثِيرُ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كَيْفَ بِكَ إِذَا بِكَ بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ قَوْمٌ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ، وَاخْتَلَفُوا وَصَارُوا هَكَذَا؟» ، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالَ: مَا تَأْمُرُنِي يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: عَلَيْكَ بِمَا تَعْرِفُ، وَدَعْ مَا تُنْكِرُ، وَعَلَيْكَ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ، وَدَعْ عَوَامَّهُمْ ".
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب تم لوگوں کے نکمے طبقے میں رہ جاؤ گے، ایسے لوگ جن کے عہد اور امانتیں بگڑ چکی ہوں گی، اور وہ اختلاف کا شکار ہو کر اس طرح ہو جائیں گے؟“ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کیں۔ عرض کیا: یا رسول اللہ، آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو جانتے ہو اسے اختیار کرو، اور جو برا سمجھو اسے چھوڑ دو، اپنی خاص ذات کی فکر کرو، اور عام لوگوں (کے معاملات) کو چھوڑ دو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13610
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 13، حدیث 13