حدیث نمبر: 13608
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ الْأَهْوَازِيُّ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ، وَمَرِجَتْ أَمَانَاتُهُمْ، وَاخْتَلَفَتْ قُلُوبُهُمْ» ، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالَ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: عَلَيْكَ بِمَا تَعْرِفُ، وَدَعْ مَا تُنْكِرُ، وَعَلَيْكَ بِخُوَيْصَّةِ نَفْسِكَ، وَإِيَّاكَ وَعَوَامَّهُمْ "
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب تم لوگوں کے نکمے طبقے میں رہ جاؤ گے، جن کے عہد بگڑ چکے ہوں گے، اور امانتیں بگڑ چکی ہوں گی، اور دل مختلف ہو چکے ہوں گے“ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کیں۔ عرض کیا: یا رسول اللہ، میں کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو جانتے ہو اسے اختیار کرو، اور جو برا سمجھو اسے چھوڑ دو، اپنی خاص ذات کی فکر کرو، اور عام لوگوں (کے معاملات) سے بچو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13608
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 12، حدیث 11