المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
المطلب بن عبد الله بن حنطب، عن ابن عمر باب: مطلب بن عبداللہ بن حنطب کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13374
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: «أَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ» ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَقُولَ النَّاسُ إِنَّهَا بُتَيْرَاءُ قَالَ: «سُنَّةُ اللهِ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ، يُرِيدُ هَذِهِ سُنَّةُ اللهِ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»ترجمہ
مطلب بن عبداللہ بن حنطب بیان کرتے ہیں: ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”ایک رکعت سے وتر پڑھو۔“ آدمی نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ لوگ کہیں گے یہ ”بتیراء“ (کٹی ہوئی، ادھوری) ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”یہ اللہ کی سنت اور اس کے رسول کی سنت ہے“، ان کی مراد یہ تھی کہ یہ اللہ کی سنت اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔