المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
وهب بن كيسان، عن ابن عمر باب: وہب بن کیسان کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13227
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، أَخْبَرَهُ وَقَدْ كَانَ وَهْبٌ أَدْرَكَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَى رَاعِيًا وَغَنَمًا فِي مَكَانٍ قَبِيحٍ , وَقَدْ رَأَى ابْنُ عُمَرَ مَكَانًا أَمْثَلَ مِنْهُ، فقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَيْحَكَ يَا رَاعي حَوِّلْهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُلُّ رَاعٍ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»ترجمہ
وہب بن کیسان رحمہ اللہ، جنہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا زمانہ پایا تھا، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک چرواہے کو اس کی بکریوں کے ساتھ ایک بری جگہ پر دیکھا، جبکہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے بہتر جگہ دیکھ رکھی تھی، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: افسوس ہے تجھ پر، اے چرواہے! انہیں منتقل کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”ہر نگران اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے۔“