حدیث نمبر: 12862
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا صَدَقَةُ بْنُ عُبَادَةَ بْنِ نَشِيطٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي عُبَادَةَ بْنَ نَشِيطٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَسْأَلُ عَنِ الطِّلَاءِ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «مَا أَدْرِي مَا طِلَاؤُكُمْ هَذَا الَّذِي تَجِيئُونَ بِهِ؟ وَلَكِنَّا كُنَّا نُؤْتَى بِشَيْءٍ كَأَنَّهُ هِنَاءُ الْإِبِلِ، فَكُنَّا نَشْرَبُهُ فَلَا نَرَى بِهِ بَأْسًا»
ترجمہ

عبادہ بن نشیط بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ”طلاء“ (پکا کر گاڑھا کیا ہوا انگوری شربت) کے بارے میں پوچھے جانے پر یہ فرماتے سنا: ”مجھے نہیں معلوم کہ تمہارا یہ طلاء جو تم لاتے ہو کیا چیز ہے، لیکن ہمارے پاس ایک چیز لائی جاتی تھی جو اونٹوں کے قطران (تارکول) جیسی گاڑھی ہوتی تھی، تو ہم اسے پیتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12862
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 210، حدیث 12918