حدیث نمبر: 12777
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيُّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنِ الْغِطْرِيفِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَنِ الرُّوحِ الْأَمِينِ قَالَ: قَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: يُؤْتَى بِحَسَنَاتِ الْعَبْدِ، وَسَيِّئَاتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَنْقُصُ بَعْضُهَا بِبَعْضٍ فَإِنْ بَقِيَ حَسَنَةٌ وَاحِدَةٌ أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ تَبْقَ حَسَنَةٌ قَالَ: {أُولَئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ} [الأحقاف: ١٦] قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ قَوْلَهُ: {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ} [السجدة: ١٧] قَالَ: هُوَ الْعَبْدُ يَعْمَلُ الْعَمَلَ السِّرَّ أَسَرَهُ اللهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَرَى قُرَّةَ أَعْيُنٍ "
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے روح الامین (جبریل علیہ السلام) سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: ”رب عزوجل نے فرمایا: قیامت کے دن بندے کی نیکیاں اور برائیاں لائی جائیں گی، وہ ایک دوسرے کو کم کرتی رہیں گی، پھر اگر ایک نیکی باقی رہ جائے تو اللہ اسے جنت میں داخل کر دے گا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اگر ایک نیکی بھی باقی نہ رہے تو؟ فرمایا: ”(اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق:) ”یہی وہ لوگ ہیں جن کے بہترین اعمال ہم قبول کرتے ہیں اور جنتیوں میں ان کی برائیوں سے درگزر کرتے ہیں“ [سورۃ الاحقاف: 16]۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: پھر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا کیا مطلب ہے: ”کوئی جان نہیں جانتی کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے“ [سورۃ السجدۃ: 17]؟ فرمایا: ”یہ وہ بندہ ہے جو پوشیدہ طور پر نیک عمل کرتا ہے، اللہ اسے قیامت کے دن اس کے لیے پوشیدہ رکھے گا، پھر وہ آنکھوں کی ٹھنڈک دیکھے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12777
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 183، حدیث 12832