المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو رجاء، عن ابن عباس باب: ابورجاء کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12705
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ رَبَّكُمْ رَحِيمٌ، مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَ لَهُ عَشْرَ أَضْعَافٍ إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ , فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةٌ وَاحِدَةٌ أَوْ مَحَاهَا، وَلَا يَهْلِكُ عَلَى اللهِ إِلَّا هَالِكٌ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک تمہارا رب رحیم ہے، جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے پھر اسے نہ کرے، اس کے لیے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی زیادہ گنا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور جو شخص کسی برائی کا ارادہ کرے پھر اسے نہ کرے، اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، اور اگر وہ اسے کر گزرے تو اس پر ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے یا وہ مٹا دی جاتی ہے، اور اللہ کے ہاں سوائے ہلاک ہونے والے کے کوئی ہلاک نہیں ہوتا۔“