المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الذيال بن حرملة، عن ابن عباس باب: ذیال بن حرملہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12690
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ مِهْرَانَ أَبُو خَالِدٍ الْخَبَّازُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنِ الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ قَوْمٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنَّ بَعِيرًا لَنَا قَطَّ فِي حَائِطٍ فَجَاءَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: «تَعَالَ» فَجَاءَ مُطَأْطِئًا رَأْسَهُ حَتَّى خَطَمَهُ، وَأَعْطَاهُ أَصْحَابُهَ , فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ , كَأَنَّهُ عَلِمَ أَنَّكَ نَبِيٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَحَدٌ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي نَبِيٌّ إِلَّا كَفَرَةُ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا: یا رسول اللہ! ہمارا ایک اونٹ ایک باغ میں (بدک کر) بھاگ گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”آ جاؤ۔“ تو وہ اپنا سر جھکائے ہوئے آیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اسے مہار ڈالی اور اس کے مالکوں کے حوالے کر دیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا لگتا ہے اسے معلوم تھا کہ آپ نبی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی دونوں پتھریلی زمینوں کے درمیان کوئی ایسا نہیں جو یہ نہ جانتا ہو کہ میں نبی ہوں، سوائے جن و انس کے کافروں کے۔“