المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عابس، عن ابن عباس باب: عابس کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَضِرِ الْخُزَاعِيُّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَةَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبِي ثنا أَبُو حَمْزَةَ الْسُّكَّرِيُّ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ النَّخَعِيِّ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ أَدْرَكْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «نَعَمْ أَدْرَكْتُهُ وَأَنَا غُلَامٌ، وَكَانَ بُغْيَتُهُ أَنْ يَحْضُرَ عِيدًا , فَخَرَجَ , فَأَمَرَ بِعَنَزَةٍ , فَرُكِزَتْ لَهُ عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، فَصَلَّى إِلَيْهَا , ثُمَّ ذَكَّرَ النَّاسَ فَوَعَظَهُمْ، ثُمَّ ارْتَفَعَ إِلَى النِّسَاءِ لَيْسَ مَعَهُ ذَكَرٌ غَيْرُ بِلَالٍ فَذَكَّرَهُنَّ، وَوَعَظَهُنَّ بِآيٍ مِنَ الْقُرْآنِ، وَحَثَّهُنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ , فَرَأَيْتُهُنَّ يَهْوِينَ إِلَى آذَانِهِنِّ، وَحُلُوقِهِنِّ لِيَدْفَعْنَ الصَّدَقَةَ إِلَى بِلَالٍ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ»عبدالرحمن بن عابس نخعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں، میں نے آپ ﷺ کا زمانہ اس وقت پایا جب میں ایک بچہ تھا، اور میری خواہش یہ ہوتی تھی کہ کسی عید میں حاضر ہو جاؤں۔ چنانچہ آپ ﷺ (عید کے لیے) نکلے تو ایک عنزہ (چھوٹا نیزہ) گاڑنے کا حکم دیا، تو اسے کثیر بن صلت کے گھر کے پاس گاڑ دیا گیا، آپ ﷺ نے اسی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، پھر لوگوں کو نصیحت کی اور وعظ کیا، پھر عورتوں کی طرف بڑھے، جبکہ آپ ﷺ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی مرد نہ تھا، آپ ﷺ نے انہیں بھی نصیحت کی، قرآن کی آیات سے انہیں وعظ کیا اور صدقہ دینے کی ترغیب دلائی، تو میں نے دیکھا کہ وہ اپنے کانوں اور گلوں کی طرف ہاتھ بڑھا رہی تھیں تاکہ (اپنے زیورات کا) صدقہ بلال رضی اللہ عنہ کو دیں، پھر آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی طرف واپس تشریف لے گئے۔“