المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد القرشي، عن ابن عباس باب: سعید قرشی کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12552
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيِّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ: مَا عَمَلٌ إِنْ عَمِلْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: «أَنْتَ بِبَلَدٍ يُجْلَبُ بِهِ الْمَاءُ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَاشْتَرِ بِهَا سِقَاءً جَدِيدًا ثُمَّ اسْتَقِ فِيهَا حَتَّى تَخْرِقَهَا، فَإِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَهَا حَتَّى تَبْلُغَ بِهَا عَمَلَ الْجَنَّةِ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: کون سا عمل ہے کہ اگر میں کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم ایسے شہر میں ہو جہاں پانی (دور سے) لایا جاتا ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کے بدلے ایک نیا مشکیزہ خرید لو، پھر اس سے پانی بھرتے رہو یہاں تک کہ وہ پھٹ جائے، کیونکہ وہ اس وقت تک نہیں پھٹے گا جب تک تم اس کے ذریعے جنت کے عمل تک نہ پہنچ جاؤ۔“