المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بشير الأسلمي أبو بشر باب: سیدنا بشیر اسلمی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوبشر
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ السِّرَاجُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَزَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ يَعْنِي عَبْدَ الْأَعْلَى بْنَ أَبِي الْمُسَاوِرِ الْجِرَارِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بِشْرِ بْنِ بَشِيرٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ اسْتَنْكَرُوا الْمَاءَ، وَكَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ عَيْنٌ يُقَالُ لَهَا رُومَةٌ، وَكَانَ يَبِيعُ مِنْهَا الْقِرْبَةَ بِمُدٍّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِعْنِيها بِعَيْنٍ فِي الْجَنَّةِ» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَيْسَ لِي، وَلَا لِعِيَالي غَيْرُهَا، لَا أَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُثْمَانَ رَضِي اللهُ عَنْهُ فَاشْتَرَاهَا بِخَمْسَةٍ وَثَلَاثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتَجْعَلُ لِي مِثْلَ الَّذِي جَعَلْتَهُ له عَيْنًا فِي الْجَنَّةِ إِنِ اشْتَرَيْتُهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: قَدِ اشْتَرَيْتُهَا، وَجَعَلْتُهَا لِلْمُسْلِمِينَبنی غفار کے ایک آدمی کا ایک چشمہ تھا جسے رُومہ کہا جاتا تھا، وہ اس سے ایک مشک پانی ایک مُد کے بدلے بیچتا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”یہ مجھے جنت میں ایک چشمے کے بدلے بیچ دو“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میرے اور میرے اہل و عیال کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں، میں ایسا نہیں کر سکتا، تو یہ بات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے اسے پینتیس ہزار درہم میں خرید لیا، پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں اسے خرید لوں تو کیا آپ مجھے بھی وہی دیں گے جو آپ نے اسے جنت میں چشمے کی صورت میں دینے کا کہا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“ تو انہوں نے کہا: میں نے اسے خرید لیا ہے، اور اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا ہے۔