المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
نسبة أبي بكر الصديق " واسمه رضي الله عنه: أبو بكر عبد الله بن عثمان بن عامر بن عمرو بن كعب بن سعد بن تيم بن مرة " باب: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نسب، اور آپ کا نام: ابوبکر عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ
حدیث نمبر: 12
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سَيْفٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ جَلَسَ مَعَ شُفَيٍّ الْأَصْبَحِيِّ فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَكُونُ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً: أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لَا يَلْبَثُ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا، وَصَاحِبُ رَحًى دَارَّةٍ يَعِيشُ حَمِيدًا، وَيَمُوتُ شَهِيدًا ". قِيلَ: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ» رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى عُثْمَانَ فَقَالَ: «وَأَنْتَ سَيَسْأَلُكَ النَّاسُ أَنْ تَخْلَعَ قَمِيصًا كَسَاكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَئِنْ خَلَعْتَهُ، لَا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ»ترجمہ
روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے: ابوبکر صدیق میرے بعد تھوڑی ہی مدت رہیں گے، اور چکی والے کا ساتھی نیک نامی سے جیے گا اور شہادت پائے گا۔“ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! وہ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمر بن خطاب۔“ پھر عثمان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اور تم سے لوگ مطالبہ کریں گے کہ اللہ عزوجل کا پہنایا ہوا لباس اتار دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم نے اسے اتار دیا تو جنت میں داخل نہیں ہو گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے گزر جائے۔“