المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبيد بن أبي مليكة، عن ابن عباس باب: عبید بن ابی ملیکہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، وَعَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيَّانِ قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَتبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَخْرِزَانِ فَخَرَجَتْ إِحْدَاهُمَا فَادَّعَتْ أَنَّ صَاحِبَتَهَا ضَرَبَتْهَا بِالْاشفا وَأَنْكَرَتِ الْأُخْرَى، فَكَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى: «أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا دَعْوَاهُمْ لَادَّعَى أُنَاسٌ مِنَ النَّاسِ أَمْوَالَ أُنَاسٍ وَدِمَاءَهُمْ وَلَكِنِ ادْعُهَا» فاتْلُ عَلَيْهَا {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ} [آل عمران: ٧٧] قَالَ: فَفَعَلْتُ فَاعْتَرَفَتْ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَسُرَّ بِهِابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھ کر دو عورتوں کے بارے میں پوچھا جو چمڑا سیا کرتی تھیں، ان میں سے ایک باہر نکلی اور دعویٰ کیا کہ اس کی ساتھی نے اسے سوئی سے مارا ہے، جبکہ دوسری نے انکار کیا۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا تھا: ”قسم مدعا علیہ پر ہے، اور اگر لوگوں کو ان کے دعووں کے مطابق ہی دے دیا جائے تو کچھ لوگ دوسروں کے مال اور خون کا دعویٰ کرنے لگیں، لیکن اسے (یعنی مدعا علیہا کو) بلاؤ۔“ پس اس پر یہ آیت پڑھو: ”بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں“ [آلِ عمران: 77]۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں: تو میں نے ایسا ہی کیا، اس نے اعتراف کر لیا، تو یہ بات ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پہنچی تو وہ اس پر خوش ہوئے۔