المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن لحي الهوزني، عن بلال باب: عبداللہ بن لحی ہوزنی کی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ الْهَوْزَنِيُّ، قَالَ: لَقِيتُ بِلَالًا مُؤَذِّنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ، حَدِّثْنِي كَيْفَ كَانَتْ نَفَقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا كَانَ لَهُ شَيْءٌ، كُنْتُ أَنَا الَّذِي أَلِي ذَاكَ مِنْهُ مُنْذُ بَعَثَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، حَتَّى تُوُفِّيَ، وَكَانَ إِذَا أَتَاهُ الْإِنْسَانُ الْمُسْلِمُ فَرَآهُ عَارِيًا، يَأْمُرُنِي بِهِ فَأَنْطَلِقُ، فَأَسْتَقْرِضُ فَأَشْتَرِي الْبُرْدَةَ، فَأَكْسُوهُ وَأُطْعِمُهُ، حَتَّى اعْتَرَضَنِي رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: يَا بِلَالُ، إِنَّ عِنْدِي سَعَةً ، فَلَا تَسْتَقْرِضْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا مِنِّي، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ تَوَضَّأْتُ، ثُمَّ قُمْتُ لِأُؤَذِّنَ بِالصَّلَاةِ، فَإِذَا الْمُشْرِكُ قَدْ أَقْبَلَ فِي عِصَابَةٍ مِنَ التُّجَّارِ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: يَا حَبَشِيُّ، قُلْتُ: يَا لَبَّيْكَ، فَتَجَهَّمَنِي، وَقَالَ لِي قَوْلًا عَظِيمًا، فَقَالَ: أَتَدْرِي كَمْ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الشَّهْرِ، قُلْتُ: قَرِيبٌ، قَالَ: إِنَّمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ أَرْبَعٌ، وَآخُذُكَ بِالَّذِي لِي عَلَيْكَ، فَإِنِّي لَمْ أُعْطِكَ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ مِنْ كَرَامَتِكَ، وَلَا كَرَامَةِ صَاحِبِكَ عَلَيَّ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَ لِأَتَّخِذَكَ لِي عَبْدًا، فَأَرُدُّكَ تَرْعَى الْغَنَمَ كَمَا كُنْتَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَأَخَذَ فِي نَفْسِي مَا يَأْخُذُ فِي أَنْفُسِ النَّاسِ، فَانْطَلَقْتُ، ثُمَّ أَذَّنْتُ بِالصَّلَاةِ حَتَّى إِذَا صَلَّيْتُ الْعَتَمَةَ، رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ، فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَأَذِنَ لِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الْمُشْرِكَ الَّذِي كُنْتُ ادَّنْتُ مِنْهُ، قَالَ لِي كَذَا وَكَذَا، وَلَيْسَ عِنْدَكَ مَا تَقْضِي عَنِّي، وَلَيْسَ عِنْدِي، وَهُوَ فَاضِحِي، فَائْذَنْ لِي أَنْ آبَقَ إِلَى بَعْضِ هَؤُلَاءِ الْأَحْيَاءِ الَّذِينَ قَدْ أَسْلَمُوا حَتَّى يَرْزُقَ اللهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقْضِي عَنِّي، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ مَنْزِلِي، فَجَعَلْتُ سَيْفِي وَجِرَابِي وَمِجَنِّي وَنَعْلِي عِنْدَ رَأْسِي، وَاسْتَقْبَلْتُ بِوَجْهِي الْأُفُقَ، فَكُلَّمَا نِمْتُ سَاعَةً انْتَبَهْتُ، فَإِذَا رَأَيْتُ عَلَيَّ لَيْلًا نِمْتُ، حَتَّى يَنْشَقَّ عَمُودُ الصُّبْحِ الْأَوَّلِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْطَلِقَ، فَإِذَا إِنْسَانٌ يَسْعَى يَدْعُو: يَا بِلَالُ أَجِبْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ فَإِذَا أَرْبَعُ رَكَائِبَ مُنَاخَاتٌ عَلَيْهِنِّ أَحْمَالُهُنُّ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْشِرْ، فَقَدْ جَاءَكَ اللهُ بِقَضَائِكَ» فَحَمِدْتُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَالَ: «أَلَمْ تَمُرَّ عَلَى الرَّكَائِبِ الْمُنَاخَاتِ الْأَرْبَعِ؟» قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: «إِنَّ لَكَ رِقَابَهُنَّ، وَمَا عَلَيْهِنَّ كِسْوَةٌ وَطَعَامٌ أَهْدَاهُنَّ إِلَيَّ عَظِيمُ فَدَكَ، فَاقْبِضْهُنَّ ثُمَّ اقْضِ دَيْنَكَ» فَفَعَلْتُ، فَحَطَطْتُ عَنْهُنَّ أَحْمَالَهُنَّ، ثُمَّ عَقَلْتُهُنَّ، ثُمَّ قُمْتُ إِلَى تَأْذِينِي صَلَاةَ الصُّبْحِ حَتَّى إِذَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجْتُ إِلَى الْبَقِيعِ، فَجَعَلْتُ إِصْبَعَيَّ فِي أُذُنِيَّ، فَنَادَيْتُ، فَقُلْتُ: مَنْ كَانَ يَطْلُبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَيْنٍ فَلْيَحْضُرْ، فَمَا زِلْتُ أَبِيعُ وَأَقْضِي حَتَّى لَمْ يَبْقَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ فِي الْأَرْضِ، حَتَّى فَضَلَ فِي يَدِي أُوقِيَّتَانِ - أَوْ أُوقِيَّةٌ وَنِصْفٌ - ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَقَدْ ذَهَبَ عَامَّةُ النَّهَارِ، وَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي الْمَسْجِدِ وَحْدَهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لِي: «مَا فَعَلَ مَا قِبَلَكَ؟» قُلْتُ: قَدْ قَضَى اللهُ كُلَّ شَيْءٍ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَبْقَ شَيْءٌ، فَقَالَ: «أَفْضَلُ شَيْءٍ» فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «انْظُرْ أَنْ تُرِيحَنِي مِنْهَا، فَإِنِّي لَسْتُ دَاخِلًا عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِي حَتَّى تُرِيحَنِي مِنْهُ» فَلَمْ يَأْتِنَا أَحَدٌ حَتَّى أَمْسَيْنَا، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَتَمَةَ دَعَانِي، فَقَالَ لِي: «مَا فَعَلَ الَّذِي قِبَلَكَ؟» قُلْتُ: هُوَ مَعِي لَمْ يَأْتِنَا أَحَدٌ، فَبَاتَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَصْبَحَ، فَظَلَّ الْيَوْمَ الثَّانِيَ حَتَّى كَانَ فِي آخِرِ النَّهَارِ جَاءَ رَاكِبَانِ، فَانْطَلَقْتُ بِهِمَا وَأَطْعَمْتُهُمَا وَكَسَوْتُهُمَا، حَتَّى إِذَا صَلَّى الْعَتَمَةَ دَعَانِي، فَقَالَ: «مَا فَعَلَ الَّذِي قِبَلَكَ؟» فَقُلْتُ: قَدْ أَرَاحَكَ اللهُ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ شَفَقًا مِنْ أَنْ يُدْرِكَهُ الْمَوْتُ وَعِنْدَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ اتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَاءَ أَزْوَاجُهُ، فَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ امْرَأَةٍ حَتَّى أَتَى مَبِيتَهُ، فَهُوَ الَّذِي سَأَلْتَنِي عَنْهُ ،سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں چل پڑا یہاں تک کہ میں (رسول اللہ ﷺ کے پاس) پہنچا تو دیکھا کہ چار اونٹنیاں بیٹھی ہوئی ہیں جن پر ان کا سامان لدا ہوا ہے، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اجازت طلب کی، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”خوشخبری ہو، اللہ تمہارے قرض کی ادائیگی لے آیا ہے“ تو میں نے اللہ عزوجل کی حمد کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارا گزر ان چار بیٹھی ہوئی اونٹنیوں کے پاس سے نہیں ہوا؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اور ان پر جو کچھ ہے، کپڑے اور کھانا، سب تمہارے لیے ہے، انہیں فدک کے سردار نے مجھے ہدیہ کیا ہے، تو انہیں لے لو اور ان سے اپنا (یعنی میرا) قرض ادا کر دو“ تو میں نے ایسا ہی کیا، میں نے ان سے سامان اتارا، پھر انہیں باندھا، پھر میں فجر کی اذان دینے کھڑا ہوا، یہاں تک کہ جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھ لی تو میں بقیع کی طرف نکلا، اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالیں اور پکارا، میں نے کہا: جو کوئی رسول اللہ ﷺ سے قرض کا مطالبہ رکھتا ہے وہ حاضر ہو، تو میں برابر بیچتا اور ادا کرتا رہا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ پر زمین میں کوئی قرض باقی نہ رہا، حتیٰ کہ میرے ہاتھ میں دو اوقیہ - یا ڈیڑھ اوقیہ - بچ گئے، پھر میں مسجد کی طرف چلا اور دن کا بیشتر حصہ گزر چکا تھا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں اکیلے بیٹھے ہیں، میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”تمہارے پاس جو تھا اس کا کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ نے وہ سب کچھ ادا کر دیا جو رسول اللہ ﷺ پر تھا، کچھ باقی نہیں رہا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کچھ بچا بھی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”دیکھو مجھے اس سے راحت دلاؤ، کیونکہ میں اپنے گھر والوں میں سے کسی کے پاس بھی داخل نہیں ہوں گا جب تک تم مجھے اس سے راحت نہ دلاؤ“ تو ہمارے پاس شام تک کوئی نہ آیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی تو مجھے بلایا اور فرمایا: ”تمہارے پاس جو تھا اس کا کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا: وہ میرے پاس ہے، ہمارے پاس کوئی نہیں آیا، تو آپ ﷺ مسجد میں رات گزار کر صبح تک رہے، پھر دوسرا دن بھی یونہی گزرا یہاں تک کہ دن کے آخر میں دو سوار آئے، تو میں انہیں لے گیا، انہیں کھلایا اور پہنایا، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی تو مجھے بلایا اور فرمایا: ”تمہارے پاس جو تھا اس کا کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ نے آپ کو اس سے راحت دلا دی، تو آپ ﷺ نے اللہ اکبر کہا اور اللہ عزوجل کی حمد کی، اس خدشے سے کہ کہیں یہ چیز آپ ﷺ کے پاس ہوتے ہوئے موت نہ آ جائے، پھر میں آپ ﷺ کے پیچھے چلا یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنی ازواج کے پاس آئے، اور ایک ایک بیوی کو سلام کیا یہاں تک کہ اپنی رات گزارنے کی جگہ پر پہنچے، یہی وہ بات ہے جو تم نے مجھ سے پوچھی تھی۔