حدیث نمبر: 10957
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرزايُّ، ثنا أَبُو حَسَّانَ الزِّيَادِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ هَذَا الْبَلَدَ يَوْمَ خَلَقَ السَّماَوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَصاغَهُ حِينَ صاغَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ، وَمَا حِيَالَهُ مِنَ السَّمَاءِ حَرَامٌ، وَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَإِنَّمَا حَلَّ لِي سَاعَةً منْ نَهَارٍ، ثُمَّ عَادَ كَمَا كَانَ» فَقِيلَ لَهُ هَذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ يَقْتُلُ قَالَ: " قُمْ يَا فُلَانُ، فائتِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَلْيَرْفَعْ يَدَهُ مِنَ الْقَتْلِ فَأَتَاهُ الرَّجُلُ فَقَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اقْتُلْ مَنْ قَدَرْتَ عَلَيْهِ» فَقَتَلَ سَبْعِينَ إِنْسَانًا، فَأُتِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى خَالِدٍ فَقَالَ: «أَلَمْ أَنْهَكَ عَنِ الْقَتْلِ؟» فَقَالَ: جَاءَنِي فُلَانٌ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْتُلَ مَنْ قَدَرْتُ عَلَيْهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ «أَلَمْ آمُرْكَ؟» قَالَ: أَرَدْتَ أَمْرًا وَأَرَادَ اللهُ أَمْرًا، فَكَانَ أَمَرُ اللهِ فَوْقَ أَمْرِكَ وَمَا اسْتَطَعْتُ إِلَّا الَّذِي كَانَ فَسَكَتَ عَنْهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل نے اس شہر (مکہ) کو اسی دن حرمت والا بنایا جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور اسے اسی وقت (حرمت میں) ڈھالا جب سورج اور چاند کو ڈھالا، اور جو کچھ اس کے اوپر آسمان میں ہے وہ بھی حرام ہے، اور یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا، اور میرے لیے بھی صرف دن کی ایک گھڑی حلال ہوا، پھر اپنی پہلی حالت پر لوٹ آیا۔“ تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: خالد بن ولید (لوگوں کو) قتل کر رہے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فلاں! اٹھو، خالد بن ولید کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ وہ قتل سے ہاتھ روک لے۔“ وہ آدمی ان کے پاس گیا تو (غلطی سے) کہہ دیا: نبی اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ”جس پر قدرت پاؤ اسے قتل کر دو۔“ تو انہوں نے ستر آدمی قتل کر دیے۔ پھر نبی کریم ﷺ کو یہ بات بتائی گئی، تو آپ ﷺ نے خالد کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں قتل سے منع نہیں کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: فلاں شخص میرے پاس آیا اور اس نے مجھے حکم دیا کہ جس پر قدرت پاؤں اسے قتل کروں۔ تو آپ ﷺ نے پھر پیغام بھیجا: ”کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا؟“ خالد نے کہا: آپ نے ایک بات چاہی اور اللہ نے دوسری چاہی، تو اللہ کا حکم آپ کے حکم پر غالب آ گیا، اور جو ہوا اس کے سوا میں کچھ نہ کر سکا۔ تو نبی اللہ ﷺ اس پر خاموش ہو گئے اور انہیں کوئی جواب نہ دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10957
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 48، حدیث 11003