المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طاوس، عن ابن عباس باب: طاؤس کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 10945
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ سَيْسَنَ الْخَيَّاطُ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَكَانَ شَيْخًا قَدِيمًا قَالَ: كُنَّا مَعَ طَاوُسٍ عِنْدَ الْمَقَامِ فَسَمِعْنَا ضَوْضَأَةً فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقِيلَ: قَوْمٌ أَخَذَهُمْ ابْنُ هِشَامٍ فِي سَبَبٍ فَطَوَّقَهُمْ فَسَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يُحْدِثُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ حَدَثًا لَمْ يَكُنْ فَيَمُوتُ حَتَّى يُصِيبَهُ ذَلِكَ» . فَأَنَا رَأَيْتُ ابْنَ هِشَامٍ حِينَ عُزِلَ، وَأَتَى عُمَّالُ الْوَلِيدِ فَطَوَّقُوهُترجمہ
ایک راوی بیان کرتے ہیں: ہم مقامِ ابراہیم کے پاس تھے کہ ہم نے شور سنا۔ پوچھا گیا: یہ کیا ہے؟ بتایا گیا: کچھ لوگوں کو ابن ہشام نے کسی معاملے میں پکڑ کر طوق پہنا دیا ہے۔ تو میں نے طاؤس کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت بیان کرتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بھی اس امت میں کوئی ایسی نئی بات ایجاد کرے جو پہلے نہ تھی، تو وہ مرے گا نہیں یہاں تک کہ اسے اس کا انجام بھگتنا پڑے۔“
(راوی کہتے ہیں:) پھر میں نے خود ابن ہشام کو دیکھا جب اسے معزول کیا گیا اور ولید کے کارندے آئے تو انہوں نے اسے طوق پہنا دیا۔