المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طاوس، عن ابن عباس باب: طاؤس کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ منَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ قَالَ: «اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّماَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ اللهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ»سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو فرماتے: ”اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کا نور ہے، اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کا قائم رکھنے والا ہے، اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کا بادشاہ ہے، اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو حق ہے، تیرا فرمان حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے، اور محمد ﷺ حق ہیں، اور تمام انبیاء حق ہیں۔ اے اللہ! میں تیرا ہی فرمانبردار ہوا، تجھ پر ہی ایمان لایا، تجھ ہی پر بھروسہ کیا، تیری ہی طرف رجوع کیا، تیری ہی مدد سے (باطل سے) جھگڑا کیا، اور تیرے ہی حضور فیصلہ لے آیا، پس تو مجھے میرے اگلے پچھلے، چھپے اور ظاہر (تمام گناہ) بخش دے، تو ہی آگے کرنے والا اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔“