المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طاوس، عن ابن عباس باب: طاؤس کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 10932
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَوَضَعَ خَمِيصَةً لَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ، فَأَتَى سَارِقٌ فَسَرَقَها، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُقْطَعَ، فَقَالَ صَفْوَانُ: يَا رَسُولَ اللهِ هِي لَهُ، قَالَ: «فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ مدینہ تشریف لائے اور مسجد میں سو گئے، اور اپنی چادر اپنے سر کے نیچے رکھ لی، پھر ایک چور آ کر اسے چرا لے گیا، تو اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، اس پر صفوان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو میں نے اسے معاف کر دی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تم نے مجھے لانے سے پہلے کیوں نہ کہا؟“