المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طاوس، عن ابن عباس باب: طاؤس کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الذَّرَّاعُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ، فَأَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ، وَطَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ كَانَ مَعَهُ، ثُمَّ عَدَلَ إِلَى السِّقَايَةِ فَقَالَ: فَقَالَ: «انْزِعُوا لِي مِنْهَا» ، فَنَزَعُوا لَهُ دَلْوًا، فَأَخَذَ حَسْوَةً فَمَضْمَضَ، ثُمَّ مَجَّهُ فِي الدَّلْوِ، ثُمَّ قَالَ: «أَعِيدُوهُ فِيهَا» فَقَالَ: " يَا بَنِي هَاشِمٍ إِنَّكُمْ عَلَى عَمِلٍ صَالِحٍ لَوْلَا أَنَّ تُغْلَبُوا عَلَيْهِ أَوْ تُتَّخَذَ سُنَّةً لَأَخَذْتُ مَعَكُمْ، ثُمَّ أَتَى مَنْزِلَهُ فَخَطَبَ أَصْحَابَهُ وَقَالَ: «إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي حَجِّكُمْ فَحُلُّوا إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ» وَقَالَ: «لَوْلَا أَنَّ مَعِي هَدْيًا لكثرتُكُمْ» فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلِعَامِنَا أُمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: «بَلْ لِلْأَبَدِ» ، وَكَانَ يُعْجِبُهُمْ مَا وَافَقَ صنيعُهُمْ صَنِيعَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ: إِذَا انْسَلَخَ صَفَرٌ، وَعَفَا الْوَبَرُ، وَبَرَأَ الدَّبَرُ فَقَدْ حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرَسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”... ہم نے حج کا احرام باندھا، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی سواری پر طواف کیا، اپنے ساتھ موجود لاٹھی سے حجرِ اسود کا استلام کرتے رہے، پھر آپ ﷺ زمزم کی سبیل کی طرف مڑے اور فرمایا: 'میرے لیے اس میں سے (پانی) نکالو۔' لوگوں نے آپ ﷺ کے لیے ایک ڈول نکالا، آپ ﷺ نے ایک گھونٹ لیا، کلی کی، پھر وہ ڈول میں ڈال دی، پھر فرمایا: 'اسے واپس ڈول میں ڈال دو۔' پھر فرمایا: 'اے بنی ہاشم! تم ایک نیک کام پر ہو، اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم پر غلبہ پا لیا جائے گا یا اسے سنت بنا لیا جائے گا تو میں بھی تمہارے ساتھ (اس کام میں) شریک ہوتا۔' پھر آپ ﷺ اپنی قیام گاہ پر تشریف لائے اور صحابہ کرام کو خطبہ دیا اور فرمایا: 'بے شک عمرہ تمہارے حج میں داخل ہو گیا ہے، لہٰذا احرام کھول دو، سوائے اس کے جس کے ساتھ ہَدی (قربانی کا جانور) ہو۔' اور فرمایا: 'اگر میرے ساتھ ہَدی نہ ہوتی تو میں بھی تمہاری طرح (احرام کھول دیتا)۔' تو سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ صرف ہمارے اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: 'بلکہ ہمیشہ کے لیے۔'“
اور انہیں یہ بات اچھی لگتی تھی کہ ان کا عمل اہلِ جاہلیت کے عمل کے موافق آ جائے، اور اہلِ جاہلیت کہا کرتے تھے: جب صفر کا مہینہ ختم ہو جائے، اور (سواری کے جانوروں کے) بال درست ہو جائیں، اور زخم اچھے ہو جائیں تو جس نے عمرہ کرنا ہو اس کے لیے عمرہ (کا احرام کھولنا) جائز ہو جاتا ہے۔