المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طاوس، عن ابن عباس باب: طاؤس کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 10924
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ سَوَادَةَ النَّخَعِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ رَجُلَيْنِ وَهُمَا يَقُولَانِ:
[البحر الطويل]
ولَا يَزَالُ حَوَارِيٌّ تَلُوحُ عِظَامُهُ ... زَوَى الْحَرْبُ عَنْهُ أَنْ يُجَنَّ فَيُقْبَرَا
فَسَأَلَ عَنْهُمَا، فَقِيلَ: مُعَاوِيَةُ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَقَالَ: «اللهُمَّ أرْكِسْهُمَا فِي الْفِتْنَةِ رِكْسًا وَدُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ دَعًّا»ترجمہ
رسول اللہ ﷺ نے دو آدمیوں کی آواز سنی جو یہ (شعر) پڑھ رہے تھے: (بحرِ طویل میں)
”کوئی نہ کوئی حواری (مددگار ساتھی) ایسا ہمیشہ رہے گا جس کی ہڈیاں (میدانِ جنگ میں) نظر آتی رہیں گی، جنگ نے اسے (کفن دفن سے) روک دیا کہ وہ لپیٹا اور دفنایا جائے۔“
آپ ﷺ نے پوچھا: یہ دونوں کون ہیں؟ عرض کیا گیا: معاویہ اور عمرو بن العاص۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! انہیں اوندھے منہ فتنے میں ڈال دے، اور انہیں دھکیل کر جہنم کی طرف لے جا۔“