حدیث نمبر: 10870
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً» . فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا أَمْرًا كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال تک تین طلاقیں ایک ہی شمار کی جاتی تھیں۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں نے ایک ایسے معاملے میں جلدی کرنی شروع کر دی ہے جس میں انہیں مہلت حاصل تھی، تو کیوں نہ ہم اسے سختی سے ان پر نافذ کر دیں؟ چنانچہ انہوں نے اسے ان پر نافذ کر دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10870
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 23، حدیث 10916