المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طاوس، عن ابن عباس باب: طاؤس کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 10851
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَهْبَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً، فَأَثَابَهُ عَلَيْهَا، فَقَالَ: «رَضِيتَ؟» قَالَ: لَا، فَزَادَهُ فَقَالَ: «رَضِيتَ؟» قَالَ: لَا، فَزَادَهُ، قَالَ: «رَضِيتَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَّهِبَ هِبَةً إِلَّا مِنْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ قُرَشِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو ایک اونٹنی ہدیہ کی، تو آپ ﷺ نے اس کے بدلے میں انہیں کچھ دیا، پھر فرمایا: ”کیا تم راضی ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے اسے مزید دیا، پھر فرمایا: ”کیا تم راضی ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے اسے مزید دیا، فرمایا: ”کیا تم راضی ہو؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں کسی انصاری، قریشی یا ثقفی کے سوا کسی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا۔“