المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن المسيب عن ابن عباس باب: سعید بن مسیب کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، وَمُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، قَالُوا: ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ فَيَّاضٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، أَتَاهُ رَجُلٌ فَخَطَا النَّاسَ حَتَّى قَرُبَ إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ، فَقَالَ: «اجْلِسْ» ، فَجَلَسَ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ، فَقَالَ: «اجْلِسْ» ، فَجَلَسَ، ثُمَّ قَامَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ، قَالَ: «وَمَا حَدُّكَ؟» قَالَ: أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فِيهِمْ عَلِيٌّ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ: «انْطَلِقُوا فَاجْلِدُوهُ مِائَةً» ، وَلَمْ يَكُنْ تَزَوَّجَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا نَجْلِدُ الَّتِي خَبَثَ بِهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتُونِي بِهِ» ، فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَاحِبَتُكَ؟» قَالَ: فُلَانَةُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَاهَا، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: كَذَبَ، وَاللهِ مَا أَعْرِفُهُ، وَإِنِّي مِمَّا قَالَ لَبَرِيئَةٌ، اللهُ عَلَى مَا أَقُولُ مِنَ الشَّاهِدِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ شَاهِدُكَ عَلَى أَنَّكَ أَخْبَثْتَ بِهَا؛ فَإِنَّهَا تُنْكِرُ أَنْ تَكُونَ أَخْبَثْتَ بِهَا، فَإِنْ كَانَ لَكَ شَاهِدٌ جَلَدْتُهَا، وَإِلَّا جَلَدْتُكَ حَدَّ الْفِرْيَةِ» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لِي شَاهِدٌ، فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ حَدَّ الْفِرْيَةِ ثَمَانِينَسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک بار رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی آیا، لوگوں کو پھلانگتا ہوا آپ ﷺ کے قریب پہنچا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! مجھ پر حد قائم کیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ وہ بیٹھ گیا، پھر دوسری بار کھڑا ہو کر کہا: یا رسول اللہ! مجھ پر حد قائم کیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ وہ بیٹھ گیا، پھر تیسری بار کھڑا ہو کر کہا: یا رسول اللہ! مجھ پر حد قائم کیجیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہاری حد کیا ہے؟“ اس نے کہا: میں نے ایک عورت سے حرام تعلق قائم کیا ہے۔ تو نبی کریم ﷺ نے اپنے چند صحابہ سے، جن میں علی، ابن عباس، زید بن حارثہ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم شامل تھے، فرمایا: ”جاؤ اور اسے سو کوڑے مارو۔“ اور وہ شادی شدہ نہیں تھا۔ کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس عورت کو بھی کوڑے نہ ماریں جس کے ساتھ اس نے بدکاری کی؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لاؤ۔“ جب اسے لایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”تمہاری ساتھی کون ہے؟“ اس نے کہا: فلاں عورت۔ تو نبی کریم ﷺ نے اس عورت کو بلا بھیجا اور اس سے اس بارے میں پوچھا، تو اس نے کہا: اس نے جھوٹ کہا، اللہ کی قسم! میں اسے جانتی تک نہیں، اور میں اس کی بات سے بری ہوں، جو میں کہہ رہی ہوں اس پر اللہ گواہ ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری گواہی کیا ہے کہ تم نے اس کے ساتھ بدکاری کی؛ وہ تو اس سے انکار کرتی ہے؛ اگر تمہارے پاس گواہ ہے تو میں اسے کوڑے ماروں گا، ورنہ تمہیں جھوٹی تہمت کی حد لگاؤں گا۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس کوئی گواہ نہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے حکم دیا اور اسے جھوٹی تہمت کی حد کے طور پر اسی کوڑے مارے گئے۔