المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعُمَرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَوْلَى غُفْرَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ قَالَ: خَاصَمْتُ الْقَدَرِيَّةَ فَأَحْرَجُونِي، فَأَتَيْتُ عِمْرَانَ بْنَ الْحُصَيْنِ الْخُزَاعِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ، خَاصَمْتُ الْقَدَرِيَّةَ فَأَحْرَجُونِي، فَهَلْ مِنْ حَدِيثٍ تُحَدِّثُنِي لَعَلَّ اللهَ يَنْفَعُنِي بِهِ؟ قَالَ: لَعَلِّي لَوْ حَدَّثْتُكَ حَدِيثًا لَبِسْتَ عَلَيْهِ أُذُنَيْكَ كَأَنَّكَ لَمْ تَسْمَعْهُ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا جِئْتُ لِذَلِكَ، فَقَالَ: لَوْ أَنَّ اللهَ عَذَّبَ أَهْلَ السَّمَاءِ وَأَهْلَ الْأَرْضِ عَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ، وَلَوْ أَدْخَلَهُمْ فِي رَحْمَتِهِ كَانَتْ رَحْمَتُهُ أَوْسَعَ لَهُمْ مِنْ ذُنُوبِهِمْ، فَإِذَا هُوَ كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ} [المائدة: ٤٠] ، فَمَنْ عُذِّبَ فَهُوَ الْحَقُّ، وَمَنْ رُحِمَ فَهُوَ الْحَقُّ، وَلَوْ كَانَتِ الْجِبَالُ لِأَحَدِكُمْ ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا، فَأَنْفَقَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ لَمْ يُؤْمِنْ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، لَمْ يَنْتَفِعْ بِذَلِكَ. فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، حَدِّثْهُ، فَقَالَ أُبَيٌّ: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، حَدِّثْهُ، فَحَدَّثَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِابوالاسود دؤلی کہتے ہیں: میں نے قدریہ (تقدیر کے منکرین) سے بحث کی تو انہوں نے مجھے تنگ کر دیا، چنانچہ میں سیدنا عمران بن حصین خزاعی رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے، کے پاس آیا اور عرض کیا: اے ابونجید! میں نے قدریہ سے بحث کی تو انہوں نے مجھے تنگ کر دیا، کیا آپ کے پاس کوئی حدیث ہے جو آپ مجھے سنائیں، شاید اللہ مجھے اس سے فائدہ پہنچائے؟ انہوں نے فرمایا: شاید اگر میں تمہیں کوئی حدیث سناؤں تو تم اپنے کان اس پر بند کر لو، گویا تم نے اسے سنا ہی نہیں۔ میں نے کہا: میں تو اسی مقصد سے آیا ہوں۔ تو انہوں نے فرمایا: اگر اللہ آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب دے تو وہ انہیں عذاب دے گا اور وہ ظالم نہیں ہوگا، اور اگر وہ انہیں اپنی رحمت میں داخل کر لے تو اس کی رحمت ان کے گناہوں سے کہیں زیادہ کشادہ ہوگی۔ اور یہ اسی طرح ہے جیسے اللہ عزوجل نے فرمایا: ”وہ جسے چاہے عذاب دے اور جسے چاہے بخش دے“ [سورۃ المائدہ: 40]، تو جسے عذاب دیا جائے وہ حق ہے، اور جس پر رحم کیا جائے وہ بھی حق ہے۔ اور اگر تم میں سے کسی کے پاس پہاڑوں کے برابر سونا یا چاندی ہو اور وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے، پھر بھی وہ تقدیر پر، اس کی بھلائی اور برائی پر، ایمان نہ رکھے تو اسے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ (ابوالاسود کہتے ہیں:) تو میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابومنذر! انہیں بتاؤ۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آپ ہی انہیں بتائیں۔ چنانچہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث جیسی ہی حدیث بیان کی۔