حدیث نمبر: 10499
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنِ الرَّضْرَاضِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَرُدُّ عَلَيَّ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: كُنْتُ مِمَّا أُسَلِّمُ عَلَيْكَ فَتُرَدَّ عَلَيَّ، فَسَلَّمْتُ فَلَمْ تُرَدَّ عَلَيَّ، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ»
ترجمہ

(سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) میں نبی کریم ﷺ کو سلام کیا کرتا تھا تو آپ ﷺ جواب دیتے تھے، ایک بار میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے جواب نہیں دیا، تو میں نے دل میں کہا: میں تو آپ کو سلام کیا کرتا تھا اور آپ جواب دیتے تھے، اب میں نے سلام کیا تو آپ نے جواب نہیں دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل اپنے حکم میں جو چاہے نیا کر دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10499
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 224، حدیث 10545