حدیث نمبر: 10450
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنِ الْكَلْبِيِّ، حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ لَمْ يُخْرِجْهُ إِلَّا الْجُوعُ، وَأَنَّ عُمَرَ خَرَجَ لَمْ يُخْرِجْهُ إِلَّا الْجُوعُ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمَا، وَأَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّهُ لَمْ يُخْرِجْهُمَا إِلَّا الْجُوعُ، فَقَالَ: " انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى مَنْزِلِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيْهَانِ، فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي الْمَنْزِلِ، ذَهَبَ يَسْتَسْقِي، قَالَ: فَرَحَّبَتِ الْمَرْأَةُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِصَاحِبَيْهِ، وَبَسَطَتْ لَهُمْ شَيْئًا فَجَلَسُوا عَلَيْهِ، فَسَأَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ انْطَلَقَ أَبُو الْهَيْثَمِ؟» قَالَتْ: ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ بِقِرْبَةٍ فِيهَا مَاءٌ، فَعَلَّقَهَا وَأَرَادَ أَنْ يَذْبَحَ لَهُمْ شَاةً، فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَاكَ لَهُمْ، قَالَ: فَذَبَحَ لَهُمْ عَنَاقًا، ثُمَّ انْطَلَقَ فَجَاءَ بِكَبَائِسَ مِنَ النَّخْلِ، فَأَكَلُوا مِنْ ذَلِكَ اللَّحْمِ وَالْبُسْرِ وَالرُّطَبِ، وَشَرِبُوا مِنَ الْمَاءِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا، إِمَّا أَبُو بَكْرٍ وَإِمَّا عُمَرُ: هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي نُسْأَلُ عَنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ لَا يُثَرَّبُ عَلَى شَيْءٍ أَصَابَهُ فِي الدُّنْيَا، إِنَّمَا يُثَرَّبُ عَلَى الْكَافِرِ»
ترجمہ

(راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ ابوالہیثم رضی اللہ عنہ کے گھر) پانی پلانے کے ارادے سے گئے، تو ان کی بیوی نے رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے دونوں ساتھیوں کا استقبال کیا اور ان کے لیے کچھ بچھا دیا تو وہ اس پر بیٹھ گئے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا: ”ابوالہیثم کہاں گئے ہیں؟“ اس نے کہا: وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں۔ ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ وہ ایک مشکیزہ پانی لے کر آ گئے، اسے لٹکایا اور ان کے لیے بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا، تو نبی کریم ﷺ کو یہ بات ناگوار معلوم ہوئی۔ تو انہوں نے ان کے لیے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا، پھر گئے اور کھجور کے خوشے لے آئے، تو انہوں نے اس گوشت، اور کچی و پکی کھجوروں میں سے کھایا، اور پانی پیا۔ ان دونوں میں سے ایک نے، یا تو ابوبکر یا عمر رضی اللہ عنہما نے، کہا: یہ اس نعمت میں سے ہے جس کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مومن سے دنیا میں ملنے والی کسی نعمت پر باز پرس نہیں کی جاتی، باز پرس تو کافر سے کی جاتی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10450
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 210، حدیث 10496