المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ صَالِحِ بْنِ جَبِيرَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ بَعَثَ إِلَى إِخْوَانِهِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْتَمِعُوا فَيُوَدِّعَهُمْ، فَاجْتَمَعُوا فِي ظُلَّةِ الْمَسْجِدِ، فَأَتَاهُمْ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ لَا يَتَنَازَعُوا فِي الْقُرْآنِ، وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ مَنْ جَحَدَ بِشَيْءٍ مِنْهُ فَقَدْ جَحَدَهُ كُلَّهُ، وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَتَنَازَعُونَ فِيهِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُمْ كَانُوا يَقْرَءُونَ عَلَيْهِ فَيُخْبِرُهُمْ كُلَّهُمْ أَنَّهُ مُحْسِنٌ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَخْتَلِفُ بِهِ الْأَلْسِنَةُ، وَلَا تَخْلَقُ عَنْ كَثْرَةِ الرَّدِّ، وَذَلِكَ أَنَّ شَرِيعَةَ الْإِسْلَامِ فِيهِ وَاحِدَةٌ؛ حُدُودُهَا وَفَرَائِضُهَا، وَلَوْ كَانَ وَاحِدٌ مِنَ الْحَرْفَيْنِ يَأْمُرُ بِشَيْءٍ يَنْهَى عَنْهُ الْآخَرُ، وَتَخْتَلِفُ فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالْحُدُودُ» وَذَكَرَ كَلِمَةً، وَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا أَعْلَمُ مِنِّي بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْلُغُهُ الْإِبِلُ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أُؤلِّفَ عَلِمَهُ إِلَى عِلْمِي، وَإِنِّي قَرَأْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً، وَكَانَ يُعْرَضُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ فِي كُلِّ سَنَةٍ، وَكُنْتُ أَعْرِضُ عَلَيْهِ فَيُخْبِرُنِي أَنِّي مُحْسِنٌ، حَتَّى كَانَ عَامُ قُبِضَ فِيهِ فَعُرِضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَرَأْتُ عَلَيْهِ، فَلَا أَدَعُهَا رَغْبَةً عَنْهَاسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس (قرأت کے اختلاف پر) جھگڑا کرتے، اور وہ آپ ﷺ کے سامنے قرأت کرتے تو آپ ﷺ سب کو بتاتے کہ وہ درست پڑھ رہے ہیں، اور رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: ”اس (قرآن) کی وجہ سے زبانیں مختلف نہ ہوں، اور بار بار دہرانے سے یہ پرانا نہ پڑے، کیونکہ اسلام کی شریعت اس میں ایک ہی ہے، اس کی حدود اور فرائض ایک ہی ہیں۔“ اور اگر ایک حرف کسی چیز کا حکم دیتا اور دوسرا اس سے منع کرتا، اور اس میں فرائض و حدود مختلف ہو جاتے (تو یہ اختلاف کا باعث بنتا) — اور آپ ﷺ نے ایک اور بات بھی کہی۔ اور (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) اگر مجھے معلوم ہو کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ اس (قرآن) کا علم رکھتا ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوا، اور وہاں تک اونٹ پہنچ سکتے ہوں، تو میں ضرور اس کے پاس جاتا تاکہ اس کے علم کو اپنے علم کے ساتھ ملا لوں۔ اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے ستر سورتیں پڑھی ہیں، اور آپ ﷺ پر قرآن ہر سال (جبریل علیہ السلام کے ذریعے) پیش کیا جاتا تھا، اور میں بھی آپ ﷺ کے سامنے قرأت کرتا تو آپ ﷺ مجھے بتاتے کہ میں درست پڑھتا ہوں، یہاں تک کہ جس سال آپ ﷺ کی وفات ہوئی اس سال یہ پیشکش دو بار ہوئی، پھر میں نے آپ ﷺ کے سامنے قرأت کی، تو اب میں اس (قرأت) کو چھوڑ کر کسی اور کی طرف رغبت نہیں کرتا۔