المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَعَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، قَالَا: ثنا عَمَّارُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي غَالِبٌ الْقَطَّانُ قَالَ: أَتَيْتُ الْكُوفَةَ فِي تِجَارَةٍ، فَنَزَلْتُ قَرِيبًا مِنَ الْأَعْمَشِ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةٌ أَرَدْتُ أَنْ أَنْحَدِرَ، قَامَ فَتَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ، فَمَرَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ {شَهِدَ اللهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ، إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ} ، ثُمَّ قَالَ الْأَعْمَشُ: وَأَنَا أَشْهَدُ بِمَا شَهِدَ اللهُ بِهِ، وَأَسْتَوْدِعُ اللهَ هَذِهِ الشَّهَادَةَ، وَهِيَ عِنْدَ اللهِ وَدِيعَةٌ {إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ} [آل عمران: ١٩] ، قَالَهَا مِرَارًا، قُلْتُ: لَقَدْ سَمِعَ فِيهَا شَيْئًا، فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ فَوَدَّعْتُهُ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، إِنِّي سَمِعْتُكَ تُرَدِّدُ هَذِهِ الْآيَةَ، قَالَ: أَوَ مَا بَلَغَكَ مَا فِيهَا؟ قُلْتُ: أَنَا عِنْدَكَ مُنْذُ شَهْرٍ لَمْ تُحَدِّثْنِي، قَالَ: وَاللهِ لَأُحَدِّثَنَّكَ بِهَا إِلَى سَنَةٍ، فَأَقَمْتُ سَنَةً فَكُنْتُ عَلَى بَابِهِ، فَلَمَّا مَضَتِ السَّنَةُ قُلْتُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، قَدْ مَضَتِ السَّنَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجَاءُ بِصَاحِبِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: عَبْدِي عَهِدَ إِلَيَّ، وَأَنَا أَحَقُّ مَنْ وَفَّى بِالْعَهْدِ، أَدْخِلُوا عَبْدِي الْجَنَّةَ "غالب القطان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں تجارت کے سلسلے میں کوفہ آیا اور امام اعمش رحمہ اللہ کے قریب ٹھہرا۔ جس رات میں نے (واپس) روانہ ہونے کا ارادہ کیا، وہ رات کو اٹھ کر تہجد پڑھنے لگے اور اس آیت سے گزرے: ”اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور فرشتوں اور اہلِ علم نے بھی (گواہی دی)، وہ انصاف کے ساتھ قائم ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ غالب، حکمت والا ہے۔ بے شک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔“ پھر اعمش نے کہا: اور میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں جس کی اللہ نے گواہی دی، اور یہ گواہی اللہ کے سپرد کرتا ہوں، اور یہ اللہ کے پاس امانت ہے: ”بے شک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے“ [سورۃ آل عمران: 19]۔ انہوں نے یہ بات کئی بار کہی۔ میں نے (دل میں) کہا: انہوں نے اس بارے میں ضرور کچھ سنا ہے۔ چنانچہ صبح میں ان کے پاس گیا اور انہیں الوداع کہا، پھر عرض کیا: اے ابو محمد! میں نے آپ کو یہ آیت بار بار پڑھتے سنا۔ انہوں نے کہا: کیا تمہیں وہ (فضیلت) نہیں پہنچی جو اس میں ہے؟ میں نے کہا: میں ایک مہینے سے آپ کے پاس ہوں، آپ نے مجھے (یہ) بیان نہیں کیا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں یہ ایک سال بعد بیان کروں گا۔ چنانچہ میں ایک سال (وہیں) ٹھہرا رہا اور ان کے دروازے پر حاضر رہتا، جب سال گزر گیا تو میں نے کہا: اے ابو محمد! سال گزر گیا ہے۔ انہوں نے کہا: مجھ سے ابو وائل نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن اس (گواہی) والے کو لایا جائے گا، تو اللہ عزوجل فرمائے گا: میرے بندے نے مجھ سے عہد کیا تھا، اور میں عہد پورا کرنے کا سب سے زیادہ حق دار ہوں، میرے بندے کو جنت میں داخل کر دو۔“