المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا سَلَّامٌ الطَّوِيلُ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ النُّطْفَةَ لَتَكُونُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ تَكُونُ مِثْلَ ذَلِكَ عَلَقَةً، ثُمَّ تَكُونُ مِثْلَ ذَلِكَ مُضْغَةً، ثُمَّ يَبْعَثُ اللهُ الْمَلَكَ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ فَيَكْتُبُ رِزْقَهُ وَأَجَلَهُ وَشَقِيٌّ أَوَ سَعِيدٌ»
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ إِلَّا ذِرَاعٌ، ثُمَّ يُدْرِكُهُ الْكِتَابُ الَّذِي سَبَقَ عَلَيْهِ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَمُوتَ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، ثُمَّ يُدْرِكُهُ الْكِتَابُ الَّذِي سَبَقَ عَلَيْهِ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نطفہ رحم میں چالیس دن رہتا ہے، پھر اتنے ہی دنوں تک علقہ (جما ہوا خون) رہتا ہے، پھر اتنے ہی دنوں تک مضغہ (گوشت کا لوتھڑا) رہتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو چار باتوں کے ساتھ بھیجتا ہے، وہ اس کا رزق، اس کی موت کا وقت، اور یہ کہ وہ بدبخت ہے یا نیک بخت، لکھ دیتا ہے۔“
پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص جنتیوں کے سے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پر وہ تحریر (تقدیر) غالب آ جاتی ہے جو پہلے سے لکھی جا چکی تھی، تو وہ جہنمیوں کے سے عمل کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ مر جاتا ہے۔ اور تم میں سے کوئی شخص جہنمیوں کے سے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پر وہ تحریر (تقدیر) غالب آ جاتی ہے جو پہلے سے لکھی جا چکی تھی، تو وہ مرنے سے پہلے جنتیوں کے سے عمل کرنے لگتا ہے۔“