المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا جَدِّي أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً، إِمَّا زَادَ فِيهَا، وَإِمَّا نَقَصَ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُهُمْ: أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: «مَا حَدَثَ فِيهَا شَيْءٌ، وَلَوْ أُحْدِثَ فِيهَا لَحَدَّثْتُكُمْ، وَلَكِنِّي بَشَرٌ أَنْسَى، فَإِذَا نَسِيتُ فَأَذْكِرُونِي» ، فَصَلَّى مَا بَقِيَ مِنْ صَلَاتِهِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ قَالَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَمْ نَقَصَ فَلْيَتَوَخَّ الصَّوَابَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک نماز پڑھائی جس میں یا تو زیادتی کی یا کمی کی، تو بعض لوگوں نے عرض کیا: کیا نماز میں کوئی نئی بات (وحی) ہوئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں کچھ نیا نہیں ہوا، اگر کچھ نیا ہوتا تو میں تمہیں بتا دیتا، لیکن میں بھی ایک انسان ہوں، بھول جاتا ہوں، جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنی باقی ماندہ نماز پڑھی، پھر سہو کے دو سجدے کیے، پھر فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور اسے معلوم نہ ہو کہ زیادتی ہوئی یا کمی، تو وہ (جو زیادہ درست لگے) اسی پر عمل کرے، پھر بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“