المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ الرَّفَّاءُ الْبَصْرِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُشَرِّفُونَ الْمُتْرَفِينَ، وَيَسْتَخِفُّونَ بِالْعَابِدِينَ، وَيَعْمَلُونَ بِالْقُرْآنِ مَا وَافَقَ أَهْوَاءَهُمْ، وَمَا خَالَفَ أَهْوَاءَهُمْ تَرَكُوهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يُؤْمِنُونَ بِبَعْضٍ وَيَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ، يَسْعَوْنَ فِيمَا يُدْرَكُ بِغَيْرِ سَعْيٍ، مِنَ الْقَدَرِ الْمَقْدُورِ، وَالْأَجَلِ الْمَكْتُوبِ، وَالرِّزْقِ الْمَقْسُومِ، وَلَا يَسْعَوْنَ فِيمَا لَا يُدْرَكُ إِلَّا بِالسَّعْيِ مِنَ الْجَزَاءِ الْمَوْفُورِ، وَالسَّعْيِ الْمَشْكُورِ، وَالتِّجَارَةِ الَّتِي لَا تَبُورُ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان لوگوں کا کیا حال ہے جو خوشحال (عیش پرست) لوگوں کی عزت کرتے ہیں اور عبادت گزاروں کو حقیر سمجھتے ہیں، اور قرآن پر صرف اسی حد تک عمل کرتے ہیں جہاں تک وہ ان کی خواہشات کے موافق ہو، اور جو ان کی خواہشات کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیتے ہیں؟ اسی طرح وہ بعض (احکام) پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں۔ وہ اس چیز کے حصول کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں جو بغیر کوشش کے بھی مل جاتی ہے، یعنی مقدر تقدیر، لکھی ہوئی موت اور بٹا ہوا رزق، اور اس چیز کے لیے کوشش نہیں کرتے جو کوشش کے بغیر حاصل ہی نہیں ہوتی، یعنی بھرپور جزا، قابلِ قدر (اللہ کے ہاں) مقبول کوشش، اور وہ تجارت جو کبھی خسارے میں نہیں جاتی۔“