المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حدیث نمبر: 10386
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا صَدَقَةُ الزِّمَّانِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَرْفَعُهُ قَالَ: «إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُتَشَدِّقُونَ الْمُتَفَيْهِقُونَ» . قُلْتُ لِابْنِ بَهْدَلَةَ: مَا الْمُتَفَيْهِقُونَ؟ قَالَ: الْمُتَكَبِّرُونَترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن مجھے تم میں سے وہ زیادہ محبوب ہوں گے جو اخلاق میں سب سے اچھے ہیں، اور قیامت کے دن مجھے تم میں سے وہ زیادہ ناپسند ہوں گے جو بڑ بولے اور تکبر سے منہ پھلانے والے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے (عاصم) ابن بہدلہ سے پوچھا: ”المتفیہقون“ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: تکبر کرنے والے۔